تیاری مکمل، اعلان کا انتظار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے سربراہ میاں شہباز شریف کی پاکستان واپسی کے انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے اور انکے استقبال کے لیے مرکزی جلوس لاہور کی شاہراہ قائد اعظم سے روانہ ہو کر ایئر پورٹ تک جاۓ گا۔ یہ بات مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری خواجہ سعد رفیق اور نائب صدر پیر بنیا مین رضوی نے سنیچر کو لاہور کے مقامی ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ کہی۔ خواجہ سعد رفیق نےکہا کہ مرکزی استقبالی جلوس کے انتظامات تو مکمل کیے جا چکے ہیں اور اب صرف انکی واپسی کی تاریخ کے اعلان کا انتظار ہے جو میاں شہباز شریف آئندہ چند گھنٹوں میں (پاکستانی وقت کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب یا اتوار کی صبح تک ) لندن میں کر دیں گے۔ تاہم شہباز شریف کی پاکستان واپسی کے بارے میں ابھی تک شکوک شبہات پائے جاتے ہیں۔ حکومتی عہدیدار واضح الفاظ میں یہ کہہ رہے ہیں کہ شہباز شریف پاکستان واپس نہیں آئیں گے اور ان کے تمام بیانات محض پروپیگینڈا ہیں۔ لیکن مسلم لیگ نواز گروپ کا اصرار ہے کہ اس کے قائد وطن واپس آ رہے ہیں۔ نواز لیگ کے رہنماؤں نے کہا کہ اس جلوس میں ملک بھر سے قافلے شریک ہونگے جبکہ پنجاب کے ہر ضلع سے عوام لاہور پہنچیں گے ۔ان کا دعویٰ تھا کہ شہباز شریف کے استقبال کے لیے اتحاد براۓ بحالی جمہوریت (اے آر ڈی ) سمیت ملک بھر کی تمام جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاجی نہیں بلکہ استقبالی جلوس ہوگا اس لیے تمام شرکاء پر امن رہیں گے۔قائدین نے کہا کہ پرامن جلوس نکالنا انکا بنیادی حق ہے اور پاکستان میں اگر جمہوریت موجود ہے تو پھر حکومت کو اس سیاسی جلوس کا راستہ نہیں روکنا چاہیے۔ پیر بنیامین رضوی نے کہا کہ پاکستان کے ہوائی اڈوں کے لاؤنجز پر کرفیو کا سا سماں ہے اور اس طرح کے قدامات کیے جا رہے ہیں جن سے تاثر ملتا ہے کہ شہباز شریف کو روکا جاۓ گا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پر کوئی کیس نہیں ہے لہذا وطن واپسی پر اس طرح کے ہتھکنڈے نہ استعمال کیے جائیں۔ مسلم لیگی قائدین کی پریس کانفرنس کے دوران اچانک اس ہوٹل کے ارد گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی جس سے یہ خیال پیدا ہوا کہ شائد پریس کانفرنس کے بعد ان مسلم لیگیوں کو گرفتارکرلیا جاۓ گا۔تاہم کسی کی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||