حمزہ کیس، حکومت جواب دے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ حمزہ شہباز کی ملک سے باہر جانے کی اجازت اور پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست پر تفصیلی جواب پندرہ روز کے اندر داخل کراۓ۔ حمزہ شہباز نے اپنی آئینی درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی تھی کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (جن شہریوں کے بیرون ملک سفر پر پابندی ہو) سے خارج کیا جاۓ اور ان کے پاسپورٹ کی تجدید کی جاۓ۔ وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں مسلم لیگ (ن) کے جلاوطن صدر شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز شریف کی ایک درخواست پر عدالت عالیہ کو بتایا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نہیں چاہتا کہ حمزہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا جاۓ۔ تاہم حکومت نے عدالت عالیہ کو اس کی وجوہ سے آگاہ نہیں کیا۔ حمزہ کا نام انیس سو ننانوے سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ہے کیونکہ احتساب عدالت میں ’حدیبیہ پیپر ملز‘ کے ایک مقدمہ میں شریک ملزم کے طور پر ان کا نام درج تھا۔ حمزہ کے پاسپورٹ کی معیاد دسمبر سن دو ہزار دو میں ختم ہوگئی لیکن متعلقہ حکام اس کی تجدید نہیں کررہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک مختصر جواب داخل کرایا جس میں کہا گیا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے وفاقی حکومت کو لکھا ہے کہ حمزہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل فہرست سے نہ ہٹایا جاۓ تاہم اس کی وجوہ بعد میں بتائی جائیں گی۔ عدالت عالیہ کے جج تصدق جیلانی نے کہا کہ حکومت کا جواب ناکافی ہے اور وہ پندرہ روز میں حمزہ کی درخواست پر تفصیلی جواب دے۔ عدالت عالیہ نے حمزہ شہباز کی ایک عبوری ریلیف کی درخواست سماعت کے لئے منظور کی جس میں حمزہ شہباز نے ایک بار ملک سے باہر جانے کی درخواست کی ہے، عدالت نے محکمہ داخلہ سے کہا کہ وہ اس پر دس روز کے اندر جواب دے۔ حمزہ شہباز سابق وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے واحد فرد ہیں جو اس وقت ملک میں موجود ہیں جبکہ ان کے والد شہباز شریف لندن میں دوسرے لوگ سعودی عرب میں تین سال سے زیادہ عرصے سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حمزہ کے والد اور سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی ایک آئینی درخواست پر سپریم کورٹ یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں کہ ملک کے کسی شہری کو پاکستان آنے سے روکا جا سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||