’شہباز شریف وطن واپس آ سکتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے پنجاب کے سابق وزیراعلٰی شہباز شریف کو وطن آنے کی اجازت دے دی ہے تاہم انہیں اپنے خلاف دائر مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چیف جسٹس جناب ناظم حسین صدیقی، جسٹس جناب جاوید اقبال اور جسٹس جناب عبدالحمید ڈوگر پر مشتمل فل بینچ نے بدہ کے روز شہباز شریف کی جانب سےدائر کردہ درخواستوں کی سماعت مکمل کرتے ہوئے اپنا مختصر فیصلہ سنایا۔ سماعت شروع ہوئی تو شہباز شریف کے وکیل جسٹس(ر) عبدالقیوم نے عدالت کو بتایا کہ ایک جانب ان کے مؤکل کو اشتہاری قرار دیا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب انہیں وطن آنے سے روکا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پاکستان کے شہری ہیں اور ان کو وطن آنے سے روکنا بنیادی آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے مخالفت کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جائے۔ اس موقع پر عدالتی کمرے میں شہباز کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے علاوہ مسلم لیگ کے بیشتر سرکردہ رہنما، جن میں راجہ ظفرالحق، چودھری نثار علی خان، سرانجام خان، پیر صابر شاہ اور تہمینہ دولتانہ شامل ہیں موجود تھے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ بھی اس موقع پر عدالت عظمیٰ میں موجود نظر آئے۔ مقدمے کی سماعت سے دو روز قبل ہی عدالت نے بدہ کے روز کسی بھی شخص کے خصوصی پاس کے بغیر عدالتی احاطے میں داخلہ پر پابندی عائد کردی تھی۔ علاوہ ازیں شہباز شریف کے وکیل ملک قیوم نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ لاہور کے ایک شہری نے جعلی پولیس مقابلے میں اپنے مارے گئے بیٹے کی ایف آئی آر میں شہباز شریف کو بھی ملزم نامزد کیا تھا۔ جب وہ مقدمہ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلا تو شہباز شریف کو مفرور قرار دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جو عدالت نے یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ جب تک ملزم مفرور ہے اس وقت تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں کی جا سکتی۔ ملک قیوم کے مطابق انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی اور اپیل کے ساتھ انہوں نے ایک آئینی درخواست بھی دائر کی جس میں بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ واضع رہے کہ دسمبر سن دو ہزار میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کا پورا خاندان سعودی عرب چلا گیا تھا۔ سرکاری اور فوجی ترجمان یہ دعویٰ کرتے رہے تھے کہ شریف خاندان حکومت سے ایک سمجھوتے کے نتیجے میں دس برس کے لئے وطن سے باہر گیا ہے لیکن شریف خاندان ان حکومتی دعوؤں کی تردید کرتا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||