حمزہ کی رِٹ پر جواب طلب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے جلاوطن صدر شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز شریف کی ملک سے باہر جانے کی اجازت اور پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست پر آٹھ روز کے اندر جواب دے۔ حمزہ شہباز سابق وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے واحد فرد ہیں جو اس وقت ملک میں موجود ہیں جبکہ ان کے والد شہباز شریف لندن میں اور دوسرے لوگ سعودی عرب میں تین سال سے زیادہ عرصے سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حمزہ شہباز کے ایک وکیل نعیم سلطان کے مطابق انھوں نے اپنی رٹ درخواست میں عدالت عالیہ سے کہا ہے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا جاۓ اور ان کے پاسپورٹ کی تجدید کی جاۓ۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج تصدق جیلانی نے حمزہ کی رٹ درخواست پر ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ پندرہ دن کے اندر متعلقہ حکام سے ہدایات لے کر جواب دیں۔ تاہم جب حمزہ شہباز کے وکیل احمد قیوم نے کہا کہ عبوری ریلیف کے طور پر حمزہ شہباز کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جاۓ تو جج نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل آٹھ دن میں جواب لے کر عدالت میں پیش ہوں۔ حمزہ شہباز نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ تین ملوں کے واحد ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں جن میں مہران رمضان ٹیکسٹائل ملز، چودھری شوگر ملز اور رمضان شوگر ملز شامل ہیں۔ حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ان کی ٹیکسٹائل ملز کی برآمدات جاپان، امریکہ اور یورپ وغیرہ میں ہوتی ہیں جہاں انھیں اپنے گاہکوں سے ملنے کے لیے جانا ضروری ہے۔ حمزہ نے کہا کہ ان کا نام انیس سو ننانوے سے ایگزٹ کنٹول لسٹ پر ہے کیونکہ ان پر احتساب عدالت میں حدیبیہ پیپر ملز کورٹ کے ایک مقدمہ میں شریک ملزم کے طور نام درج تھا لیکن بعد میں بینکنگ کورٹ نے انہیں بری کر دیا تھا اور اس مقدمہ کی کارروائی بھی رک گئی۔ حمزہ نے کہا ہے کہ ان کا خاندان پاکستان نہیں آسکتا اور ان کی ماں بیمار ہیں اس لیے انھیں اپنی ماں سے ملنے بھی ملک سے باہر جانا ہے۔ حمزہ نے عدالت عالیہ سے کہا کہ ان کے پاسپورٹ کی معیاد دسمبر سنہ دو ہزار دو میں ختم ہوگئی لیکن متعلقہ حکام اس کی تجدید نہیں کر رہے۔ حمزہ کے والد اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہوئی ہے کہ انھیں ملک واپس آنے کی اجازت دی جاۓ۔ یہ درخواست ابھی زیر سماعت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||