شہباز کیس:سرکار سے جواب طلب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے پنجاب کے سابق وزیراعلٰی شہباز شریف کی آئینی درخواست پر حکومت سے پندرہ دن میں جواب طلب کرلیا ہے۔ چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی، جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر پر مشتمل فل بینچ نے بدہ کے روز شہباز شریف کی جانب سےدائر کردہ آئینی درخواست کی سماعت شروع کی تو انکے وکیل جسٹس(ر) عبدالقیوم نے عدالت کو بتایا کہ ایک جانب انکے مؤکل کو اشتہاری قرار دیا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب انہیں وطن آنے سے روکا جارہا ہے۔ عدالت کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ صدر جنرل مشرف کے بیانات سے واضح ہے جن میں انہوں نے شریف خاندان کو وطن آنے سے روکنے کا کہا تھا۔ علاوہ ازیں انکے مؤکل کی بیگم اور بچیاں جب پاکستان آئیں تو انہیں بھی حکومت نے زبردستی واپس بھیج دیا۔ لہذا شہباز شریف کے وطن آنے پر پابندی کے متعلق حکومت سے پوچھا جائے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد آئینی درخواست پر حکومت سے پندرہ دن میں جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ آئینی درخواست میں وفاق پاکستان، پنجاب کی صوبائی حکومت اور ڈائریکٹر امیگریشن کو فریق بنایا گیا ہے اور تمام کو عدالت نے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ شہباز شریف دسمبر سنہ دو ہزار میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے ہمراہ سعودی عرب جلاوطن کردیئے گۓ تھے اور آج کل برطانیہ میں مقیم ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||