| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شہباز شریف کی درخواست مسترد
لاہور کی عدالت عالیہ (ہائی کورٹ) نے جمعرات کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ایک درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا جو انہوں نے انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت کی طرف سے خود کو مفرور قرار دیئے جانے کے فیصلہ کے خلاف دائر کی تھی۔ شہباز شریف کے وکلاء منظور ملک اور اعجاز بٹالوی نے لاہور کی عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی تھی جسے عدالت عالیہ کے دفتر نے دو مرتبہ اس اعتراض کے ساتھ ناقابل سماعت قرار دے دیا کہ مدعی (شہباز شریف) مفرور ہے اور جب تک وہ عدالت میں پیش نہیں ہوتا، درخواست کی سماعت نہیں کی جاسکتی۔ تیسری بار جسٹس راجہ صابر نے اس درخواست کے قابل پذیرائی ہونے کی سماعت سنی اور عدالت عالیہ کے دفتر کے اعتراض کو برقرار رکھا۔ شہباز شریف نے عدالت عالیہ سے کہا تھا کہ عدالت (عدالت عظمیٰ) خصوصی عدالت کی جانب سے انہیں اشتہاری قرار دیے جانے کے فیصلہ کو کالعدم قرار دے۔ درخواست میں عدالت عالیہ سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے خلاف پولیس مقابلہ میں پانچ لڑکوں کو قتل کروادینے سے متعلق مقدمہ سے لاعلم تھے کیونکہ انہیں دسمبر سن دو ہزار میں ملک سے زبردستی نکال دیا گیا اور انہیں اس مقدمہ کی خبر اخبارات کے ذریعے ہوئی۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں وطن واپسی کی اجازت نہیں۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان کی غیر حاضری میں ان کی طلبی کے احکامات اور وارنٹ گرفتاری جاری کیے جو انہیں نہیں ملے اور بعد میں عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دے دیا۔ درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ انہوں (شہباز شریف) نے خصوصی عدالت کو لکھا تھا کہ وہ وطن واپس آکر مقدمہ کا سامنا کرنے کو تیار ہیں مگر حکومت انہیں اجازت نہیں دے رہی اس لیے عدالت انہیں سفارتخانہ کے ذریعے طلب کرے اور حکومت کو حکم دے کہ وہ ان کی واپسی میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران انیس سو ننانوے میں لاہور کے علاقہ سبزہ زار میں پانچ لڑکوں کو ایک جعلی پولیس مقابلے کے ذریعے قتل کرایا تھا۔ اس مقدمے میں ان کے ساتھی ملزمان کے طور پر نامزد کئی پولیس افسران بھی خصوصی عدالت میں مقدمے کا سامنا کررہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||