اعصاب کی جنگ یا نورا کشتی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نواز کے جلا وطن صدر میاں شہباز شریف وطن واپس آسکیں گے یا نہیں اس کا اندازہ لگانا ابھی ممکن نہیں لیکن انہوں نے پاکستان میں ایک سیاسی میلہ ضرور لگا دیا ہے۔ سیا سی بے یقینی کی ایک ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جو پاکستان کے ان حالات کا خاصہ ہے جب سیاسی معاملات عروج پر ہوں۔ ان کی واپسی کے بارے میں سیاسی و فوجی قوتوں کا ردعمل خاصا فکر انگیز بھی اور ملک کی آئندہ سیاست کے نقش و نگار بھی ابھارتا نظر آتا ہے۔ پیپلز پارٹی کہتے ہیں کہ سیاست میں آج کا دوست کل کا دشمن اور کل کا دوست آج کا دشمن ہوتاہے۔ جیسے کل تک پیپلز پارٹی مسلم لیگ نواز کی اولین دشمن سیاسی پارٹی تھی۔ نواز شریف کی مسلم لیگ نے آج تک ہونے والے تمام انتخابات صرف ایک اسی پارٹی کے خلاف لڑے تھےلیکن آج ان کی سب سے بڑی حامی جماعت پیپلز پارٹی دکھائی دے رہی ہے حتیٰ کہ ایسی باتیں سننے میں آرہی ہیں کہ اگلے انتخابات دونوں پارٹیاں ایک پلیٹ فارم سے لڑیں گی اور پیپلز پارٹی نےیہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ مسلم لیگ نواز کے جلا وطن صدر شہباز شریف کی وطن واپسی پر ان کا والہانہ استقبال کرے گی۔ مسلم لیگ (ق) کل تک میر ظفر اللہ خان جمالی ،پرویز الٰہی چودھری شجاعت حسین اور شیخ رشید نواز شریف اور شہباز شریف کے نہ صرف گہرے سیاسی دوست بلکہ ہر سیاسی محاذ پر ان کی جانب سے صف اول میں لڑنے والے تھے۔ آج اگر ان کی واپسی کے اعلانات پر سب سے زیادہ ناخوش کوئی نظر آتا ہے تو وہ یہی ہیں۔ متحدہ مجلس عمل جماعت اسلامی اور دیگر دینی سیاسی جماعتیں جو کبھی آئی جے آئی تو کبھی متحدہ مجلس عمل کی صورت میں مسلم لیگ سے انتخابی اتحاد بناتے رہے یا ایڈجسٹمنٹ کرکے الیکشن لڑتے رہےاب انہوں نے شہباز شریف کی واپسی پر خاموش رہنے کو ترجیح دی ہے۔ فوجی حکمران شریف خاندان کے دس سال تک وطن نہ لوٹنے کے جس معاہدے کا ق لیگ کے عہدیدار بڑی شد ومد کے ساتھ ذکر کر رہے ہیں وہ معاہدہ اگر ہوا بھی ہوگا تو فوجی حکمرانوں کے ساتھ ہوا ہوگا۔ تاہم حیرت کی بات ہے کہ اب تک ق لیگ کے عہدیدار تو ان کی واپسی کے بارے میں مخالفانہ بیانات دے رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی فوجی حکمران یا ان کے کسی ترجمان نے ان کی واپسی کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ سوائے مقامی اخبارات میں شائع ہونے والے جنرل پرویز مشرف کے اس ایک جملے کے کہ ’شہباز شریف کے معاملہ میں عدلیہ کا احترام کیا جائےگا‘۔ کیا واقعی ان کی فوجی حکمرانوں سے کوئی ڈیل ہوگئی ہے؟ یا پھر غیر ملکی ضمانتیوں کی طرف سے ان کی جلا وطنی برقرار رکھنے کی یقین دہانی فوجی حکمرانوں کی خاموشی اور اطمینان کی وجہ ہے؟ اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ابھی تو یہ دیکھنا ہے کہ شہباز شریف کی واپسی کا معاملہ مسلم لیگی رہنما چودھری نثار علی کے کہنے کے مطابق واقعی حکومت اور مسلم لیگ کے درمیان ایک اعصاب کی جنگ ہے یا پھر محض نورا کشتی؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||