BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز شریف: استقبال کی تیاریاں

پولیس
لاہور میں جگہ جگہ پولیس کے دستے تعینات نظر آتے ہیں
مسلم لیگ نواز کے جلا وطن صدر شہباز شریف کی وطن واپسی کے سلسلہ میں مسلم لیگ نے ایک بڑا استقبالی جلوس نکالنے اور شہباز شریف کی گرفتاری یا ائیر پورٹ سے ہی واپسی کی صورت میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر لاہور میں اتحاد براۓ بحالی جہموریت (اے آر ڈی )کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے چیئرمین مخدوم امین فہیم نے کہا کہ اے آر ڈی کی تمام جماعتیں مسلم لیگ کے صدر میں شہباز شریف کا لاہور ایئر پورٹ پر والہانہ استقبال کریں گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ میں پہلی بار اس کے رہنما اور کارکن شہباز شریف کی صورت میں کسی جلا وطن مسلم لیگی رہنما کا اس کی واپسی پر استقبال کریں گے۔

دوسری طرف حکومت نے اس استقبالی جلوس کو سختی سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور لاہور میں جگہ جگہ پولیس فورس تعینات دکھائی دے رہی ہے۔

سنیچر اور اتوار کی شب لاہور کی پولیس لائنز میں ایک اجلاس ہوا جس میں لاہور کے تمام پولیس افسران اور ایس ایچ او حضرات نے شرکت کی۔

ایک پولیس افسرنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں ہدایات دی گئی ہیں کہ متحرک مسلم لیگیوں کے، خاص طور پر جو مقدمات میں نامزد ہیں، گھروں پر چھاپے مارے جائیں۔

پولیس
مسلم لیگی قیادت نے الزام لگایا ہے کہ پولیس لیگی کارکنوں کو حراساں کر رہی ہے

پولیس افسر کے مطابق ان چھاپوں کا مقصد گرفتاری سے زیادہ انہیں ہراساں کرنا ہونا چاہیے۔

’اس کے لیے ان کے گھروں پر باوردی اہلکار دستک دے کر انہیں بلائیں لیکن دیواریں پھلانگنے کی ضروررت نہیں ہے۔‘

اجلاس میں یہ ہدایات بھی دی گئی ہیں کہ کسی کو جلوس نکالنے کی اجازت دی جائے نہ کسی کو ائیر پورٹ جانے کی اجازت دی جائے ۔

اس کے علاوہ ٹرانسپورٹر حضرات کو بھی بلا کر یہ ہدایات دی جا رہی ہیں کہ وہ اپنی گاڑیاں مسلم لیگیوں کو مت دیں اور دھمکی دی جارہی کہ دوسری صورت میں انہیں گاڑی سمیت گرفتار کر لیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق لاہور کے علاوہ بعض دیگر اضلاع میں بھی ایسی ہی صورتحال پائی جا رہی ہے۔

لیڈی پولیس
حکومت نے شہر کے کئی مقامات پر لیڈی پولیس فورس بھی تعینات کی ہے
بہاولنگر میں ایک مقامی صحافی شفیق خان نے بتایا کہ وہاں کے تھانوں کو بھی مسلم لیگی کارکنوں کی فہرستیں دیکر انہیں گرفتار کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

ادھر مسلم لیگ نواز پنجاب کے نائب صدر پیر بنیا مین رضوی نے کہا ہے کہ ان کے کارکنوں کے گھروں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں، جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔

میاں شہباز شریف پنجاب کے سابق وزیر اعلی بھی رہے ہیں اور لاہور سے ہی الیکشن بھی لڑتے رہےہیں۔

حالیہ انتخابات میں بھی مسلم لیگ نواز کو لاہور میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی تھی۔شہباز شریف کی واپسی بھی لاہور میں متوقع ہے اس لیےلاہور کی انتظامیہ اس سلسلہ میں خصوصی انتظامات کر رہی ہے۔

لاہور پولیس کے ایک بڑے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جس روز شہباز شریف کی واپسی متوقع ہوگی اس روز پورے شہر کو بیرون شہر سے آنے والے جلوسوں کو روکنے کی حد تک سیل کر دیا جائے گا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں سیاسی جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس اکثر اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد