شہباز: دس مئی سے پہلے واپسی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نےلاہور میں اپنے حامی اراکین اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں سے لندن سے ایک ٹیلی فونک خطاب میں دس مئی سے قبل وطن واپس لوٹنے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کے اس واضح اعلان سے ملکی سیاست ایک نئی کروٹ لیتی دکھائی دے رہی ہے ۔ لاہور میں ان کے راۓ ونڈ فارم میں واقع رہائش گاہ کی چند روز قبل خصوصی صفائی ستھرائی کی گئی تھی جبکہ سوموار سے ان کی واپسی کا بقول لاہور کے ایک مسلم لیگی رہنما’ماحول‘ بنانے کے لیے جلسے جلوسوں کا ایک سلسلہ شروع ہوجاۓ گا جو ان کی واپسی کے دن تک بتدریج زور پکڑتا جاۓ گا۔ مسلم لیگی حلقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق میاں شہباز شریف براہ راست لاہور آئیں گے۔ مبصرین لاہورکو مسلم لیگ کا گڑھ قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں ایک خاص مرکزی مقام ر کھنے والے شہر لاہور کے سیاسی حلقوں میں اہم ترین موضوع بحث میاں شہباز شریف کی واپسی ہی ہے ۔طرح طرح کی قیاس آرئیاں اور تجزیے پیش کیے جارہے ہیں کیا شہباز شریف واقعی آئیں گے؟ کیا انہیں ائرپورٹ سے ہی زبردستی واپس بھیج دیا جاۓگا؟ کیا انہیں گرفتار کرلیا جاۓ گا؟ کیا انہیں کچھ نہیں کہا جاۓ گا اور وہ مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے آزاد ہونگے؟ان سمیت اور بھی کئی سوالات لاہور کے سیاسی ححلقوں میں زیر بحث ہیں ۔ ان کی واپسی کے لیے مظاہرے کرنے والے سیاسی ورکروں کے خلاف پولیس ایک کے بعد دوسرا مقدمہ درج کرتی چلی جارہی ہے اور بعض مبصرین کے اس تجزیہ پر غورکیا جاۓ کہ ’اگرشہبازشریف صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ مل گئے تو یہ اقدام ان کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہوگا۔‘ لیکن اگر اس بات کو شہباز شریف کے اس بیان کے تناظر میں دیکھا جاۓ جو انہوں نے اپنے وطن واپسی کے بارے میں عدالتی فیصلہ کےفوری بعد جاری کیا تھا اور جس میں کہا تھا کہ’ وہ وطن لوٹ کر انتقام کی سیاست نہیں کریں گے‘تو ان کی واپسی کوئی ڈیل معلوم نہیں ہوتی۔ پھر اگر اس معاملہ کو صدر پرویز مشرف کے اس ایک سطری بیان سے جوڑا جاۓ جو اخباری اطلاعات کے مطابق انہوں نے چند روز قبل ایک تقریب میں شہباز شریف کی واپسی سے متعلق سوال کے جواب میں دیاتھا کہ ’وہ(پرویزمشرف ) عدالتی فیصلہ کا احترام کریں گے‘ تو حالات بظاہر شہبازشریف کی واپسی کے لیے سازگار معلوم ہوتے ہیں ۔ پھر اتوار کو پیپلز پارٹی کے رہنما منیر احمد خان کے گھر ایک تقریب میں چودھری شجاعت کا یہ بیان دیا کہ ’شہباز شریف اور ان کے خاندان کو سابق وزیر اعظم نوازشریف کے خاندان کے ساتھ معافی نامہ پر دستخط کرکے ملک چھوڑنے کی ضرورت نہیں تھی شہباز شریف نے خود ہی گھبرا کر یہ دستخط کر دے تھے۔ ‘ یہ تمام ایسے اشارے ہیں جو ان کی واپسی کے حالات کو نسبتا ساز گار بتاتے ہیں۔ لیکن اگر اس بحث میں پڑے بغیر یہ مان لیا جاۓ کہ وہ اپنےاعلان کے مطابق لوٹیں گے تو پھر مبصرین کہتے ہیں کہ میاں شہباز شریف کو حالات ویسے نہیں ملیں گے جیسے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ ان کے اپنے پراۓ اور پراۓ اپنے ہوچکے ہیں ۔ ان کی روائتی سیاسی حریف پیپلز پارٹی شاید ان کی حلیف ہوگی اور اس بار ان کی اصل حریف مسلم لیگ ق ہوگی جس میں زیادہ تر اراکین اسمبلی اور عہدیدار وہ ہیں جو کبھی ان کے اپنے تھے لیکن ان کی جلاوطنی کے بعد سیاسی وفاداری تبدیل کرچکے ہیں۔ ایسے سیاستدانوں کے لیے شہباز شریف کی لاہور میں موجودگی کوئی زیادہ خوشگوار نہیں ہوگی۔ ادھر دو تین روز قبل پاکستان کے اخبارات میں شائع ہونے والا پرویز مشرف کا بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’بعض بد عنوان لوگ حکومت میں آگئے ہیں‘ اپوزیشن نے اسے صدر پرویز مشرف کا سجدہ سہو قرار دیا ہے اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر مخدوم امین فہیم نے اپنے ایک تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ ’پرویز مشرف کو اسمبلیاں توڑ کر نئے الیکشن کرانے کا اب فیصلہ کر ہی لینا چاہیے۔‘ ان تمام حالات میں شہباز شریف کی واپسی ملکی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جاسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||