پارٹی کشا کش کاایک اور معتوب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میر ظفر اللہ جمالی جنرل مشرف کی حامی پاکستان مسلم لیگ کی اندرونی لڑائی میں نشانہ بننے والی دوسری بڑی شخصیت ہیں۔ اس سے پہلے میاں اظہر پارٹی معاملات میں بالادستی کے لیے ہونے والی کھینچاتانی میں نہ صرف مسلم لیگ کی صدارت سے الگ ہوئے بلکہ ملکی سیاست سے بھی باہر ہوگئے۔ ان دونوں موقعوں پر کامیابی بظاہر گجرات کے چودھریوں کے حصّے میں آئی جو نہ صرف اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے بلکہ پنجاب میں اپنے سیاسی اثرورسوخ کے بل بوتے پر پارٹی معاملات میں اپنی گرفت اور مضبوط کر لی۔ جنرل مشرف کے حامی مسلم لیگ کا قیام تو اسی وقت عمل میں آگیا تھا جب میاں اظہر کی قیادت میں لیگیوں کے ایک دھڑے نے نواز شریف حکومت کے آخری دور میں اپنی ایک الگ شناخت بنا لی تھی۔ نواز شریف حکومت کے خاتمے کے بعد گجرات کے چودھری برادران شجاعت حسین اور پرویز الہی اس دھڑے میں شامل ہوگئے اور ہم خیال دھڑے نے پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کا روپ دھار لیا۔ مگر مسلم لیگ (ق) کے قیام کے چند روز بعد ہی پارٹی معاملات میں بالادستی کے لیے میاں اظہر اور چودھری شجاعت کے مابین رسہ کشی شروع ہوگئی۔ پارٹی کے صدر میاں اظہر سن دو ہزار دو میں ہونے والے انتخابات میں ہار گئے تو انہوں نے چودھری برادران کو اپنی شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انتخابی عمل میں شکست کے کچھ دیر بعد ہی وہ سیاسی میدان اور پارٹی سے بھی باہر ہوگئے۔ اس موقع پر جب اپوزیشن پارٹیوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ میاں اظہر کی شکست کے بعد ق لیگ کے پاس وزیراعظم کے عہدے کے لیے کوئی موزوں امیدوار نہیں ہے تو چودھری برادران میر ظفر اللہ جمالی کا نام سامنے لے آئے۔ بعد میں جب جمالی وزیراعظم بنے تو سیاسی حلقوں کویہی توقع تھی کہ وہ فوجی جنتا کے ساتھ ساتھ پارٹی امور میں بھی فری ہینڈ چاہتے ہیں۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنی اتحادی جماعتوں کو مسلم لیگ میں ضم کرنے کی حمایت کی تاکہ پارٹی میں چودھریوں کے اثرورسوخ کو کم کیا جاسکے۔ لیکن سیاسی مبصرین کے مطابق چودھریوں نے مشاہد حسین کو مسلم لیگ کا سیکرٹری جنرل بنا کر نہ صرف ان کا یہ وار ناکام بنا دیا بلکہ کھلے عام جمالی کی مخالفت شروع کر دی۔ مبصرین کے مطابق میر ظفر اللہ جمالی اور چودھریوں کے درمیان تازہ ترین اختلافات کی وجہ کابینہ کی توسیع کے سلسلے میں پائے جانے والے اختلافات ہیں۔ اب دیکھنا یہ کہ گجرات کے چودھری جو شریف خاندان کے بعد پنجاب سے سامنے آنے والا ایک بڑا سیاسی خاندان بن کر ابھرے ہیں کب تک سیاست کے نازک معاملات میں کامیابی سے توازن قائم رکھ سکتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کس حد تک ان کے توسیع پسندانہ ارادوں کو برداشت کرتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||