BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 January, 2005, 13:42 GMT 18:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جنسی زیادتی فوجیوں نے کی‘

بلوچستان
اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) نے بدھ کو الزام لگایا ہے کہ سوئی میں خاتون ڈاکٹر سے ایک فوجی افسر سمیت پانچ فوجی اہلکاروں نے اجتماعی جنسی زیادتی کی جسے چھپانے کی کوشش میں جھوٹ بولا جا رہا ہے۔

لاہو رمیں اے آر ڈی کے سربراہی اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں شریک بلوچستان سے جمہوری وطن پارٹی کے سینیٹر امان اللہ خان نے کہا کہ یکم اور دو جنوری کی رات کو ڈیفنس سیکیورٹی گارڈ (ڈی ایس جی) کے ایک فوجی کیپٹن اپنے چار ساتھیوں سمیت لیڈی ڈاکٹر کے گھر میں گھس گئے اور انہوں نے صبح چار گھنٹے تک انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

سینیٹر امان اللہ نے الزام لگایا کہ اس واقعہ کے بعد لیڈی ڈاکٹر بےہوش ہوگئیں اور انہیں اسی حالت میں پی پی ایل ہسپتال میں چھوڑا گیا جہاں چند روز داخل رہنے کے بعد میں انہیں کراچی کے ایک ہسپتال میں منتقل کیا گیا لیکن بعد میں یہ واقعہ عوام سے چھپایا گیا۔

سینیٹر امان اللہ نے دعویٰ کیا کہ نصیرآباد پولیس کے ایس پی غلام محمد ڈوگر نے لیڈی ڈاکٹر کے مکان کا معائنہ کیے جانے کے بعد رپورٹ دی ہے کہ اس سے اجتماعی زیادتی ہوئی اور اس کے شواہد پولیس کو مل گئے ہیں۔

سینیٹر امان اللہ کے مطابق ایس پی نے ہسپتال والوں سے کہا کہ آپ اس کی ایف آئی آر درج کرائیں اور یہ کہ ہسپتال والے غلط کہہ رہے ہیں کہ یہ ڈکیتی ہے بلکہ یہ تو اجتماعی زنا بالجبر کا کیس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خاتون ڈاکٹر کراچی کی رہنے والی سندھی خاتون ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ پر سوئی کے لوگوں میں غصہ ہے اور ان کا سیکیورٹی فورسز سے تصادم ہوا اور آج وہاں پر سیکیورٹی گارڈ پسپا ہوگئی ہے اور اس کی جگہ فوج کی فرنٹیئر کانسٹیبلری نے لے لی ہے اور بارہ سو فوجی اور چھ گن شپ ہیلی کاپٹر وہاں پر بھیج دیے گئے ہیں۔

تاھم پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار علی سلمان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس فوجی افسر پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے اس کی صرف دو ہفتے پہلے ہی شادی ہوئی ہے اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ وہاں رہ رہا ہے انہوں نے کہا ’ہمیں پورا یقین ہے کہ وہ اس قسم کے گھناؤنے جرم میں ملوث نہیں ہیں لیکن جب تک اس معاملے کی تفتیش مکمل نہیں ہوجاتی ان کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا‘ ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سیاسی وجوہات کی بنا پر ملوث کیا گیا ہے اور بعض عناصر اس سے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جب تک انوسٹی گیشن مکمل نہیں ہوجاتیں اس وقت تک کسی کا نام نہیں لیا جاسکتا کیونکہ یہ انسانی حقوق کے خلاف ہے کہ کسی بے گناہ کا نام لیا جاۓ۔

انہوں نے کہا کہ لیڈی ڈاکٹر نے فوج کو بیان نہیں دیا اس لیے انہیں نہیں معلوم کہ انہوں نے کس کو نامزد کیا ہے انہوں نے کہا کہ انہوں نے صرف پولیس کو بیان قلمبند کرایا ہے جس کا انہیں علم نہیں ہے ۔

’اس معاملے میں اگر کوئی فوجی بھی ملوث ہوا تو اسے گرفتار کر لیا جاۓ گا کوئی بھاگا نہیں جارہا لیکن پہلے تفتیش مکمل ہونا ضروری ہے‘

انہوں نے کہاکہ یہ ایک بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے جس میں بہت ہی مجرمانہ ذہنیت کے لوگ ملوث ہیں اس کا حکومت نے سختی سے نوٹس لیا ہے اور انکوائری ہو رہی ہے انہوں نے کہاکہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے اور جو بھی مجرم ہوا اسے سخت ترین سزا ملے گی ۔شوکت سلطان کے مطابق خاص طور پر فوج کا اپنے احتساب کا سلسلہ بے حد سخت ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹنڈو بہاول میں ایک میجر نے جرم کیا تو اسے پھانسی کی سزادی گئی وہ اگر سویلین ہوتا تو شائد اسے اتنی سخت سزا نہ ملتی۔

بلوچستان حکومت پہلے ہی اس واقعہ کی ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کا حکم دے چکی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے وزارت دفاع کو اس کی تحقیقات کے لیے کہا ہے۔

عورتیںعورتیں اورمذہب
پاکستان میں عورتیں مذہب کی طرف راغب
جیل، بیویاں، بچے
قیدیوں کو بیویوں اور بچوں کی سہولت
پشاور’پشاور بچاؤ‘ تحریک
صوبائی دارالحکومت کے لیے نئی تنظیم
کوئٹہ دھماکہکوئٹہ بم دھماکہ
دھماکے کی تباہ کاریاں تصاویر میں
بلوچستان اسمبلیزچگی میں اموات
بلوچستان میں زچگی کے دوران شرح اموات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد