’پشاور پچاؤ‘ تحریک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے تاریخی دارالحکومت پشاور میں عام تاثر یہ ہے کہ صفائی، ٹریفک اور دیگر شہری مسائل کی صورتحال روز بہ روز بگڑتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے پچیس لاکھ کی آبادی کے اس شہر پر ایک عجیب سا رنج طاری ہے۔ ہر کوئی اپنی ہی دُھن میں مست ہے لیکن جو مقام ان کو اس مستی کے مواقع فراہم کر رہی ہے اس کے بارے میں کوئی نہیں سوچ رہا۔ ہر ایک پر نفسا نفسی کا عالم طاری ہے۔ ہر کوئی صفائی ستھرائی کا خیال رکھ رہا ہے لیکن اپنی دہلیز کی حد تک، اس سے باہر کیا حالت ہے کسی کو اس سے کیا۔ شہر کی سڑکوں کی وہ حالت ہے کہ شاید اگر پختہ نہ ہوتیں تو بہتر ہوتا۔ اہم سڑکوں پر قیمتی اور دیدہ زیب پول تو لگ گئے لیکن ان میں روشنی دینے کے لئے شہر کی انتظامیہ کے پاس رقم نہیں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق شہر میں موجود گاڑیوں کی تعداد میں ہر سال تیس فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس کے پاس فنڈز نہیں اور ڈرائیوروں میں آگہی نہیں کہ ٹریفک کو کیسے ایک ربط میں رکھا جائے۔ ٹریفک رش پہلے دفتری اور سکولوں کے اوقات میں ہوتا تھا اب ہر وقت ہوتا ہے۔ رکشہ اور باڑے کی بڑی بڑی بسیں تو درد سر تھیں ہی اب کینچی بھی تھوڑی بہت بچی کھچی تنگ جگہ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ریڑھی بانوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کہ کتنے ہیں۔
گزشتہ دنوں شہر کے انتظامی طور پر بہتر سمجھے جانے والے چھاؤنی کے علاقے میں بھی پڑھی لکھی انتظامیہ نے پہلے ہی سے چھوٹے فٹ پاتھوں کو سکیڑ کر مزید چھوٹا کر دیا تاکہ گاڑی کے امیر مالکان کو پارکنگ کا مسئلہ نہ ہو۔ فٹ پاتھ کم کرنے والے شاید بھول گئے کہ اس سے دو چار گاڑیوں کو تو شاید پارکنگ دستیاب ہوجائے لیکن یہ اس کا مستقل حل تو نہیں۔ اصل حل تو ہر اہم علاقے میں بڑے بڑے پارکنگ لاٹس ہیں۔ شہر کی قدیم عمارتوں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔ اکثر گرنے کے قریب ہیں یا گرائی جا چکی ہیں۔ ان میں شہر کی فصیل اور سولہ دروازے بھی شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں یکہ توت کے علاقے میں مقامی باشندوں کی جانب سے فصیل کا ایک حصہ توڑنے کے خلاف احتجاج دیکھا تو خوشی ہوئی کہ چلو کسی کو تو احساس ہے۔ لیکن اب جو وہاں سے گزرا تو وہ فصیل ندادر۔ اوقاف نے مارکیٹ بنائی تھی اور دوکانوں پر لے دے کر کے شاید معاملہ ختم ہوگیا اور ساتھ میں وہ قدیمی دیوار بھی جو اس کے اندر رہنے والوں کو ڈاکوں اور لٹیروں سے بچاتی تھی۔ شہر کے مرکز میں قدیمی قلعہ بالا حصار کی شکل تو اس کے سامنے پٹرول پمپس بنا کر بگاڑ دیا گیا لیکن اب اس کے اندر بھی ایک مسجد کا مینار ابھر رہا ہے جو اس کی اصل حالت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
توجہ یقیناً ہر شہر اور گاؤں کو چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں لیکن پشاور پر صوبائی دارالحکومت ہونے کے ناطے ایسے دباؤ رہے ہیں جو شاید کسی اور شہر پر رہے ہوں۔ لاکھوں کی تعداد میں دیگر علاقوں سے لوگ یہاں روزگار کی تلاش میں آئے اور اسے اپنا مستقل مسکن بنا لیا اور لاکھوں کی تعداد میں افغان پناہ گزین آئے یہاں کے محدود وسائل پر پچیس برسوں تک مزید بوجھ بنے رہے اور اب بھی ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان دو بڑی وجوہات کے باوجود اس شہر کو اس تناسب سے اس کا ترقیاتی فنڈز میں اس کا حصہ نہیں ملا۔ اب باتیں تو ہو رہی ہیں کہ عالمی برادی سے افغانوں کی مہمان نوازی کے صلے میں بحالی کے لئے فنڈز بھی حاصل کئے جائیں۔ پاکستان کے دیگر شہروں کی نسبت پشاور ایک گاؤں کا سا تاثر دیتا ہے۔ اس زبوں حالی میں سدھار لانے کی کوشش کے لئے مقامی صحافیوں اور دانشوروں نے پشاور بچاؤ تحریک نام سے ایک غیر سیاسی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تحریک کے ذریعے پشاور کو دوچار مسائل کی جانب توجہ دلانے اور اس سے زیادہ اہم حکومت پر ان کے حل کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کے لئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ تحریک شروع کرنے والے روزنامہ مشرق کے مدیر ایاز بادشاہ ہیں جنہیں اس کا پہلا کنوینر بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اس تحریک کا اہم جز اس کی ذرائع ابلاغ کی طاقت ہے۔ اسی کا فائدہ اس شہر کے لئے اٹھانے کی ٹھانی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ’سیو پشاور‘ نام سے ایک ویب بھی تیار کی جا رہی ہے۔ جو پشاوری اس میں مدد کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے۔ کئی اہم شخصیات کی جانب سے مدد کی پیشکش پہلے ہی موصول ہوچکی ہیں۔ شہر کی بری حالت کے باوجود اس کے منتظم جیسے کہ ضلعی اور ٹاون ناظمین مسائل کے حل میں کوئی اقدام اٹھانے کی بجائے اپنی تشہیر میں مصروف ہیں۔ اپنی بڑی بڑی تصاویر صدر اور وزیر اعظم کے ساتھ اہم مقامات پر آویزاں کیں ہیں۔ ان تصاویر لگانے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی کہ انہوں نے اس شہر کے لئے ایسا کیا کیا کہ اس کی ضرورت پڑی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ دزائع ابلاغ ہی ایسا ایک شعبہ ہے جو اس صوبے کے حکمرانوں کا ضمیر جھنجوڑ سکتا ہے۔ پھولوں کے اس شہر میں بسنے والے ان حکمرانوں کا دیکھنا یہ ہے کہ یہ ضمیر کب تک سویا رہتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||