BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 November, 2004, 16:25 GMT 21:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: ہندوشاہی دور تک رسائی

پشاور
پشاور کے ماضی کی تلاش میں ماہرین نے ایک ہزار قدیم ہندو شاہی دور تک رسائی حاصل کر لی ہے
پاکستان کے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ماہرین آثار قدیمہ نے اس قدیم شہر کی تاریخ جاننے کے لئے گور گٹھری کے مقام پر کھدائی کا کام دوبارہ شروع کیا ہے۔

فی الحال ماہرین نے جو بارہ فٹ تک کھدائی کی ہے اس میں انہیں ایک ہزار سال پرانے ہندوشاہی زمانے کے نوادرات تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق پشاور ناصرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے قدیم ترین مگر زندہ شہروں میں سے ایک ہے۔ لیکن یہ شہر کتنا قدیم ہو سکتا ہے اس بارے میں ماہرین کی رائے واضع نہیں ہے۔

اس کمی کو دور کرنے کے لیے صوبائی محکمہ آثار قدیمہ نے شہر کے وسعت میں سب سے اونچے تاریخی مقام گور کھٹری میں گزشتہ تین برسوں سے زائد عرصے سے کھدائی کا کام جاری کر رکھا ہے۔

لیکن اس تحقیق کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ کھدائی فنڈز کی کمی کے باعث انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر کچھ فنڈز کی دستیابی کے بعد یہ کھدائی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔

گور کھٹری
پشاور کا وہ مقام جہاں ماہرینِ آثار قدیمہ کھدائی کر رہے ہیں

تاہم اب تک کی بارہ فٹ کی کھدائی میں ہی انہیں برطانوی دور سے لے کر ایک ہزار سال پرانے ہندو شاہی دور تک کے نوادارت مل چکے ہیں لیکن ماہرین کی کوشش ہے کہ وہ شہر کی مختلف ادوار کے آخری شواہد تک پہنچ سکیں۔

اس سے قبل کیا شہر کی تاریخ معلوم کرنے کی کوئی کوشش ہوئی اس بارے میں آثار قدیمہ کے محکمے کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر احسان علی کا کہنا تھا کہ انگریزوں نے شاہ جی کی ڈھیری کے مقام پر انیس سو پانچ میں کھدائی کی تھی لیکن وہ افق کے متوازی تھی زمین کے اندر نہیں تھی۔ پھر پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر فرزند علی درانی نے انیسو بانوے میں کوشش کی تھی لیکن اڑتالیس فٹ تک کھدائی کے بعد مزید نیچے جانے کی لیے ان کے پاس جگہ نہیں بچی تھی۔

اس کوشش کے دوران پشاور کا تئیس سو سالہ مورینز تک کے دور کا پروفائل ہی تیار کرسکے۔

ماہرین مزید کتنی کھدائی کا ارادہ رکھتے ہیں اس بارے میں ڈاکٹر احسان نے بتایا کہ وہ ’ورجن سوائل‘ تک پہنچنا چاہتے ہیں جس کے لیے مزید چار سال کا عرصہ لگ سکتا ہے بشرطیکہ کہ کھدائی مسلسل جاری رہے۔

آثار ِ قدیمہ
پشاور سے دستیاب بعض آثارِ قدیمہ

ماضی کو جاننے کی اس تمام کوشش کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس کھدائی سے ملنے والے نوادرات کے لیے گور کھٹری کی تاریخی عمارت کے اندر ہی ایک عجائب گھر بنایا جا رہا ہے۔

اس سے سیر و تفریح کے لیے یہاں آنے والوں کو شہر کی ماضی کے بارے میں معلومات بھی میسر آئیں گی۔ اس عمارت کے مشرقی اور مغربی دروازوں کی مرمت کا کام جاری ہے جبکہ عمارت کے دیگر حصوں کو بھی بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آثار قدیمہ کی تلاش کا کام وسائل اور وقت کا متقاضی رہتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ صوبائی حکومت یہ دونوں کب تک مہیا کر سکتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد