BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: رام مندر خالی کرنے کا نوٹس

مندر
دیڑھ سو سال قدیم مندر کا اندرونی حصہ

پشاور چھاؤنی کنٹونمنٹ کی فوجی انتظامیہ نے ایک بار پھر ڈیڑھ سو سال قدیم ایک مندر اور اس کے اردگرد قائم تقریبا چھ سو افراد کی بستی کو خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔

فوجی انتظامیہ تجارتی نوعیت کی اہمیت اختیار کر جانے والے اس علاقے میں تعمیرات کو گرا کر ایک پلازہ یا کثیرالمنزلہ عمارات تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوششیں گزشتہ پندرہ برس کے دوران کئی بار کی گئیں تاہم تاحال انہیں کامیابی نہیں ہو سکی۔

مندر کے نگراں رام لال ہیں جو گزشتہ پینتیس برس سے اپنے خاندان کے ساتھ پشاور کے علاقے صدر کی اس کالی باڑی نامی بستی میں قائم تقریبا ڈیڑھ صدی پرانے شیری بالمیک مندر میں رہتے اور پوجا پاٹ کرتے آئے ہیں۔ اس چھوٹے سے قدیم مندر کے اردگرد تقریبا ستر مکانات ہیں جن کے مالکان کو انخلاء کے نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔

صوبہ سرحد کے دارالحکومت کے وسط میں چھاونی کے اس علاقے نے کاروباری اعتبار سے کافی اہمیت حاصل کر لی ہے اور اردگرد پہلے ہی کئی کثیرالمنزلہ عمارات تعمیر ہوچکی ہیں۔ کالی باڑی کا علاقہ بھی موٹر مکینکوں کی ورکشاپوں کو وجہ سے مصروف رہتا ہے اور دن میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی۔

چھاونی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ کنٹونمنٹ بورڈ کی ملکیت ہے اور وہ اسے خالی کرانے کا اختیار رکھتی ہے۔

دوسری جانب رام لال جوکہ مقامی ہندو برادری کے سربراہ بھی ہیں، کہتے ہیں کہ یہ جائیداد اقلیتی برادری کی ہی ہے۔

مندر تاریخی اعتبار سے اور یہاں عبادت کرنے والوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے

خود ان کے الفاظ میں’اٹھارہ سو اکیاسی میں مہرچند کھنہ، سیٹھ سلوان، سیٹھ اشور داس اور سیٹھ شنکر داس چار ہندو سیٹھ تھے جو اس وقت تقریباً آدھے کینٹ کے مالک تھے اور یہ کالی باڑی جو انہوں نے اپنے گھریلو ملازمین کے لئے بنائی تھی اور اسی وقت سے ہمارے آباو اجداد یہاں رہ رہے ہیں۔‘

رام لال کا کہنا تھا کہ اگر یہ علاقہ چھاؤنی کی ملکیت ہوتا تو فوجی انتظامیہ انہیں کب کا بے دخل کرواچکی ہوتی۔

نچلی ذات کے ہندوں کی عبادت کے لئے بنائے گئے اس مندر کی عمارت اپنے طور پر اتنی قیمتی نہیں لیکن تاریخی اعتبار سے اور پوجا کرنے والوں مقامی لوگوں کے لئے یہ کافی اہم ہے۔

وہاں رہنے والی ایک ہندو عورت دیوی داس کا کہنا تھا ’ہماری ساری عمر اسی گھر یا مندر میں گزری ہے، یہ ہماری زندگی کا حصہ ہے۔‘

رام لال شہر سے باہر متبادل جگہ لینے کے لیے تیار نہیں تاہم مجوزہ کثیر منزلہ عمارتوں ہی میں متبادل جگہ ملنے کی صورت میں یہ جگہ خالی کرنے کو تیار نظر آتے ہیں۔

پشاور چھاؤنی کے حکام کا موقف ہے کہ وہ ہندو برادری کو شہر کے مضافات میں متبادل جگہ دینے کے لئے تیار ہیں۔

فی الحال وفاقی حکومت کی ہدایت پر اس معاملے کو اختتامِ رمضان تک التو میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس قضیے کا اپنی خواہش کے مطابق حل پانے کے لئے علاقے میں آباد ہندوؤں کی دعائیں اور کوششیں ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد