پشاور میں ’بالاخانوں‘ پر حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کے ڈبگری بازار میں تاجروں نے اتوار کو موسیقاروں اور گائکوں کے خلاف بطور احتجاج ہڑتال کی ہے۔ لیکن اس سے قبل پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کو رات گئے ایک مشتعل ہجوم نے موسیقاروں کے بالا خانوں پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا اور تیرہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ پشاور کی میوزک سٹریٹ کہلاوانے والے ڈبگری بازار میں گزشتہ کچھ عرصے سے فنکاروں اور مقامی آبادی کے درمیان کشیدگی میں سنیچر کو رات گئے مزید اضافہ ہوا ہے۔ موسیقی کی جگہ وہاں رات آنسو گیس کے گولے چلنے اور لاٹھی چارج کی آوازیں سننے کو ملیں۔ مقامی آبادی ان فنکاروں پر بداخلاقی اور فحاشی پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں بےدخل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ہفتے کی رات علاقے کے ایک مشتعل ہجوم نے ان موسیقاروں کے بالاخانوں پر حملہ کیا۔ مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی اور موسیقی کے آلات کو نذرآتش کیا۔ اس احتجاج کی وجہ حکمراں جماعت اسلامی کے مقامی رہنما مراد علی شنواری نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’میراثی‘ راتوں کو ان کی عورتوں کو تنگ کرتے ہیں جبکہ سنیچر کی رات انہوں نے شراب پی کر غل غپاڑہ کیا اور انہیں ماں بہن کی دھمکیاں دیں۔ ’اس پر ہم ہاہر نکلے تو پولیس نے ہم ہی پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس چلائی۔‘ پولیس نے احتجاج کرنے والے تیرہ افراد کو، جن میں کئی مقامی ناظم اور بازار کے تاجروں کی انجمن کے صدر بھی شامل ہیں، حراست میں لے لیا ہے۔ صوبہ سرحد کے مشہور پشتو گائیک گلزار عالم مخالفین کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ڈبگری بازار ہے محلہ نہیں جہاں لوگ آئیں گے اور جائیں گے۔ ’ آپ کسی کو وہاں کھڑے ہونے سے نہیں روک سکتے۔ یہ فنکار یہاں صدیوں سے آباد ہیں اور انہیں بے دخل کرنا ناجائز ہے۔ یہ لوگ کہاں جائیں گے بےروزگاری میں تو یہ چوری چکاری ہی کریں گے حکومت تو انہیں متبادل نوکریاں نہیں دے سکتی۔‘
مقامی تاجروں نے ان موسیقاروں کے بےدخلی کے مطالبے کے حق میں اتوار کو ہڑتال کی۔ تاہم صورتحال پر قابو رکھنے کی خاطر پولیس کی بھاری نفری بھی بازار میں تعینات رہی۔ پشاور کے یہ گویے اور موسیقار آج کل دوبارہ مشکل میں گرفتار ہوگئے ہیں۔ ماضی میں صوبائی حکومت ان کی مخالف تھی۔ اس مرتبہ ڈبگری بازار کے تاجروں اور رہائشیوں نے انہیں علاقہ بدر کرنے کی لئے ایک تحریک شروع کر رکھی ہے۔ پاکستان کے دیگر قدیم شہروں کی طرح پشاور میں بھی موسیقی اور گائیکی کے فن سے منسلک افراد کا ایک برسوں پرانا گڑھ ڈبگری بازار رہا ہے۔ اس مصروف بازار کے بالاخانوں میں بیٹھے یہ فنکار معاشرے کے غریب طبقے کے لئے تفریح اور شادی بیاہ میں رنگ بھرنے جیسے کام کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے ان فنکاروں کو اپنے بالاخانوں کی کھڑکیاں بند رکھنے کا حکم دیا لیکن بعد میں ذرائع ابلاغ میں واویلا کے بعد حکومت نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔ ان کے خلاف قائم کی گئی نجاتِ فحاشی تحریک کے سربراہ محمد ظاہر شاہ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’یہ کنجر ڈوم لوگ اب اپنے دائرے سے نکل کر فحاشی پر اتر آئے ہیں۔ وہ رات کو گاڑیوں میں گزرنے والوں سے پوچھتے نظر آتے ہیں کہ آپ کو لڑکی چاہئے یا لڑکا۔ یہ ہم جنس پرستی میں ملوث ہیں۔ ہم انہیں اس علاقے سے نکال کر دم لیں گے۔ ہم اس علاقے کو مزید بدنام نہیں ہونے دیں گے۔‘ بازار میں تمام بالاخانے بند ہیں، کھڑکیاں بند ہیں اور یہاں بیٹھے لوگ غائب۔ ان میں کام کرنے والے مثل خان کا کہنا تھا کہ احتجاج بے وجہ ہے۔ ’ہم بھی دیگر دوکانداروں کی طرح گاہک کا انتظار کرتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔ یہاں تو کچھ نہیں ہوتا۔‘ ان فنکاروں کے خلاف احتجاج میں مقامی ناظم محمد اقبال بھی موجود تھے۔ وہ بھی نالاں نظر آئے۔ ان سے پوچھا کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے لئے کیا کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ سرحد سے ملے ہیں جنہوں نے ایک کمیٹی پشاور کے ناظم کی سربراہی میں تشکیل دی ہے تاکہ مسئلہ کا کوئی حل نکالا جا سکے۔ لیکن بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود اس کمیٹی کے کام کے مکمل ہونے کا انتظار کئے بغیر سڑک پر نکل آئے ہیں۔ صوبہ سرحد کے معاشرے میں جہاں موسیقی سے تو رغبت رکھی جاتی ہے لیکن شاید موسقیاروں سے نہیں، ان فنکاروں کے لئے حالات کبھی بھی سازگار نہیں رہے۔ آج کل وہ ایک اور مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||