BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 February, 2004, 14:20 GMT 19:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میرے بعد میری محنت بچ جائے‘

ارباب
چالیس سال کی معیاری مصوری اور مجسمہ سازی جس کے نتیجے میں پرائیڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ پانے والے صوبہ سرحد کے ارباب محمد سردار آجکل پریشانی سے دوچار ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے نام پر ایک آرٹ گیلری قائم کرے تاکہ ان کا فن آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ ہو سکے۔ لیکن فن اور ثقافت کے لئے آج کل اس صوبہ میں حالات کچھ زیادہ سازگار نہیں ہیں۔

پشاور کے نواحی گاؤں لنڈی ارباب کے ایک پرانے وسیع وعریض مکان کے کونے میں اپنی زندگی کی محنت سجائے، اٹھاون سالہ ارباب سردار آج کل بے یقینی کا شکار نظر آتے ہیں۔

انہیں دل کا عارضہ لاحق ہے اور بائی پاس کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں یہ فکر لاحق ہے کہ ان چالیس سالوں کی محنت کا اس کے بعد کیا ہوگا۔

ارباب سردار کا ’میورل ریلیف‘ کام اور پینٹنگز اسلام آباد میں پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاوسز کے علاوہ پشاور میں گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاوسز اور جناح پارک میں آویزاں ہیں۔

اس کے علاوہ غیرملکیوں کی ایک بڑی تعداد بھی ان کے فن پارے خرید کر بیرون ملک لیجا چکی ہے۔ اپنے خوبصورت مکان کی دوسری منزل پر قائم دو بڑے اور دو چھوٹے کمروں پر مشتمل گیلری، آج بھی ان کی بنائی ہوئی پینٹنگز اور مجسموں سے بھری پڑی ہے۔

ان کی گیلری کے دورے کے بعد ارباب سردار کے فن کی تعریف صادقین نے ان الفاظ میں کی: ’بہت لگن، شوق، انہماک اور فن سے عشق میں جذبے کی کیفیت کے جملہ عناصر کا استعمال ارباب سردار کی شبانہ روز محنتوں میں نمایاں ہیں۔ وہ ہر طرح سے صاحب ذوق اور عارف جمال معلوم ہوتے ہیں۔‘

ایک فرانسیسی اخبار کے صحافی پٹریس کلوڈ کا کہنا تھا کہ ارباب سردار کا کام دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کتنے حساس ہیں۔

ارباب سردار سے پوچھا کہ وہ کس طرح کی گیلری کا مطالبہ کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان کے ذہن میں پشاور میں ایک ایسی عمارت کا تصور ہے جہاں صوبے کے بہترین فنکاروں کے فن کی نمائش کے ساتھ ساتھ ان کا تحفظ بھی کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس گیلری میں نئی نسل کی تربیت کا فریضہ بھی انجام دینا چاہتے ہیں۔ ’اس صوبہ میں ٹیلنٹ اور جذبے کی کوئی کمی نہیں صرف ان کی نوک پلک سیدھی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

ارباب سردار کواپنے فن پاروں کے تباہ ہوجانے کا ڈر اس لئے بھی ہے کہ ان کی کوئی اولاد نہیں۔ ’میں چاہتا ہوں میرے بعد میری محنت بچ جائے اور یہ کام حکومت ہی بہتر انداز میں کر سکتی ہے۔‘

صوبہ سرحد کے فنکاروں کو صوبے کی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت آنے کے بعد تشویش میں ویسے ہی اضافہ ہوا ہے۔ صوبے میں فن اور ثقافت سے منسلک سرگرمیاں کافی کم ہوگئی ہیں۔ لیکن ارباب سردار کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی آدمی نہیں لہذا سیاسی باتیں نہیں کرنا چاہتے۔

ان کو البتہ ایک بات سے اتفاق ہے کہ ماضی کی کسی حکومت نے فن و ثقافت کو کبھی ترجیح نہیں دی اور مستقبل میں بھی اس کا امکان مقدوش ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد