پشاور پر راکٹ حملے، تین زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کے چار علاقوں پر راکٹ حملے ہوئے ہیں جن میں تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پولیس نے ابھی تک صرف شہر میں تین راکٹ گرائے جانے کی تصدیق کی ہے جس کے نتیجے میں، پولیس کے مطابق، صرف ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ راکٹ قریبی خیبر ایجنسی کے قبائلی علاقے کے داغے گئے ہوں۔ پہلا راکٹ پشاور شہر کے ڈبگری علاقے میں واقع لیڈی گرفیتھ سکول پر گرا جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ دوسرا راکٹ صوبائی سول سیکرٹیریٹ کے پارکنگ ایریا میں گرا جس کے نتیجہ میں ایک شخص زخمی ہوا۔ تیسرا راکٹ پرانی کچہری کے علاقے میں گرا جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ چوتھا راکٹ قلعہ بالا حصار کی حدود میں گرا جہاں فرینٹیئر کنسٹیبلری کے نیم فوجی دستوں کی صدر دفتر بھی واقع ہے۔ ابھی تک پولیس نے قلعہ بالا حصار پر راکٹ حملے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پشاور کے شہری علاقوں کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے سولہ لاکھ کی آبادی والے صوبائی دارالحکومت میں بسنے والوں کے دلوں میں خوف و حراس اور بے اطمینانی کی سی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ’ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے نامعلوم شدت پسند کنٹونمنٹ کے علاقے میں واقع گورنر ہاؤں اور کورکمانڈر ہاؤس کو نشانہ بنانا چاہتے ہوں۔‘ مبصرین کے مطابق حالیہ حملے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کاروائی کا رد عمل ہو سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||