جرگہ اور عورتوں کے مسائل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شادی، پسند کی شادی، زمین کا جھگڑا یا تور (کارو کاری ) کا معاملہ، سبھی مسائل کے لیےصوبہ سرحد میں پرانا اور روایتی طریقہ ہے جرگے سے رجوع کیا جانا۔ جرگہ فیصلہ سناتا ہے اور اس پر عمل درآمد بھی ایک روایت ہی سمجھی جاتی ہے اور روایت کو اپنایا جاتا ہے۔ بہر حال مبصرین کے مطابق جرگے میں فریقین کے نمائندے موجود ضرور ہوتے ہیں لیکن فیصلہ جرگے کے اراکین کرتے ہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق عمومی تاثر ہے کہ اگر الزام مرد پر ثابت ہونے کا خدشہ ہو تو سوارہ کے ذریعے معاملہ طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یعنی ہرجانے میں عورت کا دیا جانا۔ عمر اور شعور کی کوئی قید نہیں ہوتی قتل بھائی کرے اور اسے بچانے یا جرگے کے فیصلے کے مطابق اس کا ہرجانہ بیٹی یا بہن کو دان میں دے کر ادا کیا جاتا ہے۔ اس وقت صوبہ سرحد میں پانچ سے زائد ایسی غیر سرکاری تنظیمیں شہری اور دیہی علاقوں کی عورتوں کے مسائل پر کام کر رہی ہیں۔ ’سرحد کے پندرہ اضلاع میں عورت فاؤنڈیشن کی ایسی کمیٹیاں کام کر رہی ہیں جو گھر گھر جا کر عورتوں میں ان کے حقوق کی بیداری اور ان کو درپیش گھریلو مسائل کے حل کے لیے مشاورت کرتی ہیں۔
عورت فاؤنڈیشن کی رخشندہ خان کا کہنا تھا کہ’عورتوں کے لیے جو فیصلے کیے جاتے ہیں ان سے بغیر پوچھے ہوتے ہیں۔ قتل بھائی نے کیا اور تاوان میں بہن دے دی‘۔ ان تنظیموں سے رابطہ کرنے والی بیشتر خواتین بقول رخشندہ خان متوسط یا اس سے بھی کم آمدنی والے گھرانوں کی ہوتی ہیں جن کے لیے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانا آسان نہیں ہوتا۔ جیب اور حالات کا شکار ایسی ہی خواتین کے لیے مفت قانونی امداد کا بھی بندوبست کیا جاتا ہے۔ پشاور میں اسی نوعیت کے مقدمات کی شنوائی کے لیے کام کرنے والے اور عورت فاؤنڈیشن سے وابستہ ایڈووکیٹ اکبر علی شاہ کا کہنا ہے ’ہمارے امدادی کاموں کے اشتہارات پڑھ کر یہ خواتین ہم سے رابطہ کرتی ہیں، ان میں زیادہ تر گھریلو اور دیگر خاندانی یا دشمنی جھگڑوں پر جرگے کے فیصلوں کا شکار ہوتی ہیں اور بے بنیاد وجوہات پر قربان نہیں ہونا چاہتیں‘۔
ایسی خواتین کو قانونی مدد تو دی جاتی ہے لیکن مقدموں کے فیصلوں میں خاصا وقت لگ جاتا ہے ۔ اکبرعلی شاہ کے مطابق قانونی کوششوں کے بعد بھی چونکہ صوبے میں غلبہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت کا ہے جو اسلامی قوانین کی حامی ہے ایسے میں عورتوں سے منسلک مسائل کے شرعی حل پر زور دیا جاتا ہے اور اکثر ’تور‘ یا سوارہ جیسے مقدمات میں گھری خواتین انہیں قوانین کا شکار ہوجاتی ہیں۔ بقول اکبرعلی شاہ فیملی عدالتوں میں مقدمات چلتے ضرور ہیں لیکن ان کی صوابدید کب ہو اس بارے میں کہنا مشکل ہے۔ اس وقت صوبے بھر میں تیرہ خواتین مخصوص نشستوں پر متحدہ مجلس عمل کی طرف سے منتخب ہوئی ہیں۔ پشاور میں متحدہ مجلس عمل کی زبیدہ خاتون سے عورتوں کے مسائل اور جرگے کے فیصلوں پر رائے جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا’ ان منتخب شدہ خواتین کا یہی مقصد ہے کہ وہ سوارہ جیسی قبیح روایات کو ختم کرا سکیں اور اسی کے لیے کام کر رہی ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ متحدہ مجلس عمل کے صوبے میں اسلامی نفاذ قانون کی حامی ہیں‘۔ بار بار خواتین کے مسائل کے لیے کسی باقاعدہ حکمت عملی پر سوالات کے باوجود زبیدہ خاتون کسی ٹھوس لائحہ عمل کی نشاندہی نہیں کر پائیں۔ اور یہی وہ بحث ہے جو متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت اور عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے مابین جاری ہے۔ اس سلسلے میں عورت فاؤنڈیشن کی رخشندہ خان کا کہنا تھا کہ متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ان تنظیموں کے جاری تنازعے کے باعث مقامی سطح پر جو ادارے کام کر رہے ہیں وہ ان کا ساتھ دینے سے کتراتے ہیں۔
جرگے کے فیصلوں کے بارے میں رخشندہ خان کا کہنا تھا کہ جو خواتین ہمارے پاس آتی ہیں ان کا کہنا ہوتا ہے ’ کہ ہم سے کسی قسم کی رائے نہیں لی جاتی ہے اور اکثر اُن میں سے ایسی بھی ہوتی ہیں جو سوارہ میں بیٹی دے کر کہتی ہیں کہ کیا ہوا بھائی تو بچ گیا‘۔ ایسے واقعات کے خلاف شعور کی بیداری کے لیے سیٹیزن ایکشن کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جن کے نمائندے گھر گھر جا کر خواتین سے بات چیت کرتے ہیں لیکن صوبہ سرحد کے دیہی علاقوں میں خواتین کارکنوں کے لیے کام کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ شام کو گھروں سے نکل کر رضاکارانہ طور پر ایسے کام کرنے والی خواتین کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن آٹے میں نمک کے برابر صحیح پر ان کی کوشش رکتی نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||