| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان: خواتین یونیورسیٹی
بلوچستان میں خواتین کے لیے علیحدہ یونیورسٹی قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی نے یونیورسٹی کے لیے اراضی اور پانچ کروڑ روپے فراہم کر نے کا اعلان کیا ہے۔ یونیورسٹی کا نام سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی آف بلوچستان تجویز کیا گیا ہے جس کے لئے زمین ریلوے نے فراہم کی ہے۔ کوئٹہ میں سردار بہادر خان ریلوے ٹی بی سینیٹوریم کو خواتین یونیورسٹی کے لیے وقف کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم جمالی نے منگل کو ایک تقریب میں اس کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ یونیورسٹی کے ابتدائی اخراجات کے لیے وفاقی حکومت پانچ کروڑ روپے دے گی۔ ریلوے نے یہ اراضی بغیر کسی معاوضے کے دی ہے۔ سینیٹوریم کی کل اراضی سینتیس ایکڑ ہے اور اس وقت یہاں ایک چیسٹ انسٹیٹیوٹ قائم ہے۔ سردار بہادر خان ریلوے کے وزیر رہ چکے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس یونیورسٹی کے لیے بلوچستان سے کسی قابل خاتوں کو تعینات کیا جا ئے گا تاکہ اس یونیورسٹی میں بچیوں کو بہتر تعلیمی ماحول مہیا ہو۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم ظفراللہ جمالی نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن کا اعلان جلد کیا جائے گا جس میں تمام صوبوں کے موقف کو اہمیت دی جا ری ہے۔ اس سوال پر کہ جام یوسف کی حکومت مالی بحران کا شکار ہے وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس وقت پورا ملک مالی مسائل میں گھرا ہوا ہے، دیگر صوبوں کو بھی مشکلات درپیش ہیں قومی مالیاتی کمیشن کے اعلان کے بعد اس مسائل پر قابو پا لیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||