| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اسمبلی: دوپٹے پر ہنگامہ
پنجاب اسمبلی میں بدھ کے اجلاس میں خواتین ارکان کے ننگے سر اور دوپٹہ اوڑھنے کے معاملہ پر خاصا ہنگامہ ہوگیا اور اس موضوع پر بحث کے دوران مرد ارکان قہقہے لگاتے رہے۔ یہ بات ایک رکن حامد شاہ نے پوائنٹ آف آرڈر پر شروع کی جس میں انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے تقدس میں خواتین ارکان اسمبلی کو اپنے سر ڈھانپ لینے چاہئیں اور اگر کوئی رکن دوپٹہ سر پر نہیں اوڑھنا چاہتی تو اسے گیلری میں بھیج دیا جائے۔
اس بات پر خواتین ارکان نشستوں سے کھڑی ہوگئیں اور انہوں نے سخت احتجاج کیا۔ مسلم لیگ (ق) کی رکن اسمبلی سمعیہ امجد نے کہا کہ ’سنا تھا کہ رمضان میں شیطان بند ہوتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ یہاں ان نیتوں اور نظروں کے شیطانوں کو پکڑنے کا کوئی بندوبست کرنا پڑے گا۔‘ ایک خاتون رکن نے کہا کہ ’یہ نکتہ اٹھانے والے رکن کو خواتین کے سروں کے بجائے اسمبلی کی کارروائی پر دھیان دینا چاہیے۔‘ بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایک رکن غلام فرید ہزاروی نے کہا کہ ’عورتوں کے سر کے بال بھی پردے میں شامل ہیں اور ان کو شریعت کے مطابق ڈھانپنا لازم ہے، تاہم اگر غلطی ہوجائے تو کوئی جرم نہیں۔ البتہ جان بوجھ کر ایسا کرنا شرعی طور پر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ اور چہرے کو ڈھانپنا اچھی بات ہے تاکہ نامحرم کی نگاہ نہ پڑے لیکن اس کی پابندی لازمی نہیں اور نہ شرعی جرم ہے البتہ افضل ہے۔‘ متحدہ مجلس عمل کے رہنما اور رکن اسمبلی احسان اللہ وقاص نے پردہ کے بارے میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ’جرمنی ، فرانس ، امریکہ اور یورپ سمیت کئی ممالک میں مسلمان خواتین نے سر ڈھانپنے کے لیے قانون کے ذریعے تحفظ حاصل کیا ہے اور وہاں اس خاتون کو مسلمان سمجھا جاتا ہے جس کے سر پر اسکارف ہو۔‘ احسان اللہ وقاص نے کہا کہ ’ایوان میں خواتین بڑی مقدس ہیں اور انہیں بھی سر ڈھانپنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی خاتون یہ سمجھتی ہے کہ وہ عورت نہیں اور پردہ ضروری نہیں تو وہ سر نہ ڈھانپے۔‘
دوپٹے اور سر ڈھانپنے کی یہ بحث اس وقت ختم ہوئی جب اسمبلی چلانے والے ڈپٹی اسپیکر شوکت مزاری نے کہا کہ ’ایوان میں موجود تمام خواتین محترم ہیں اور یہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں اور رمضان کے تقدس کے پیش نظر ارکان کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہیں۔‘ پنجاب اسمبلی کی خواتین کے معاملات کسی نہ کسی وجہ سے اسمبلی میں زیر بحث آتے رہتے ہیں۔ چند روز پہلے پیپلز پارٹی کی منحرف رکن انبساط خان اور پیپلز پارٹی کی ایک او رکن عظمیٰ بخاری کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تھی جس میں ذاتی نوعیت کے الزامات لگائے گئے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ (ق) کی رکن اسمبلی نے جب گھریلو تشدد کے خلاف بل پیش کیا تو مرد ارکان نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے خاندان تباہ ہوجائیں گے۔ کچھ عرصہ پہلے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی احسان اللہ وقاص کے اس تبصرہ پر کہ خواتین کو سویٹ ڈش کے طور پر اسمبلیوں میں لایا گیا ہے خاصا ہنگامہ برپا ہوگیا تھا اور ایک خاتون رکن نے ان کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’مرد ارکان کے لیے یہ سویٹ ڈش کھانا آسان نہیں ہوگا۔‘ پنجاب اسمبلی کا شاید ہی کوئی اجلاس ہو جس میں خواتین سے متعلق کوئی معاملہ زیر بحث نہ آتا ہو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||