کوئٹہ: چار افراد دم گھٹ کر ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ کے ایک گھر میں سوئی گیس لیک ہونے کے باعث چار افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ کراچی کے رہائشی محمد اکرم چٹھہ نے ایک ہی روز قبل یہ گھر کرائے پر لیا تھا جہاں اس کے تین بچے اور بیوی اس کے ہمراہ تھے۔ اگلے ہی روز محمد اکرم کا دوست اس سے ملنے آیا تو دروازہ کسی نے نہ کھولا۔ شک پڑنے ہر اہل محلہ کسی طریقے سے اندر داخل ہوئے تو اہل خانہ بے ہوش پڑے تھے اور گیس ہیٹر سے گیس کا اخراج ہو رہا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ محمد اکرم کی بیوی، ایک سالہ بچی اور چار چار سال کے دو جڑواں بچے دم توڑ چکے تھے جبکہ محمد اکرم بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سنیچر کو لگ بھگ سولہ افراد گیس سے متاثر ہو کر آئے تھے جنھیں ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا تھا۔ سردیوں میں یہاں کوئٹہ میں گیس سے دم گھٹ کر ہلاک ہونے کے واقعات اکثر پیش آتے ہیں اور اس بارے میں متعلقہ محکمہ کی جانب سے احتیاط برتنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ دوسری جانب خاران میں ایک سیلابی ریلے میں پانچ سو سے زیادہ مکانات بہہ گئے ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں تین روز سے جاری بارشوں اور برفباری کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ ضلع خاران کی ضلعی رابطہ افسر محمد اعظم بلوچ نے بتایا ہے کہ وہاں سیلابی ریلے میں چار دیہاتوں کے پانچ سو سے زیادہ مکان بہہ گئے ہیں۔ اس سیلاب میں لوگوں کے مال مویشی ختم ہوگئے ہیں اور لوگ بے آسرا پڑے ہیں۔ ضلع خاران میں پرانے موصلاتی نظام کی وجہ سے صوبائی حکومت سے رابطہ نہیں ہو پارہا تھا اس لیے مقامی سطح پر دستیاب وسائل سے لوگوں کی امداد کی گئی ہے۔ ا س کے علاوہ گزشتہ تین روز میں تربت اور گردو نواح میں بارشوں سے چار افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔صوبے کے دیگر علاقوں سے مکانات گرنے اور سڑک کے حادثوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||