عورتوں میں مذہبی رجحان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جہاں ایک حد تک مغربی فیشن اپنانے کے رجحان میں اضافے کا تاثر ہے وہاں خواتین اور باالخصوص نوجوان لڑکیوں میں دینی تعلیم کا رجحان اس سے کہیں زیادہ بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران دینی مدارس میں لڑکیوں کی سالانہ شرح اندراج پچیس فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ملک میں دیوبند، بریلوی، اہلِ حدیث، اہل تشیع اور جماعت اسلامی کے زیرِانتظام پانچ مکاتب فکر کے وفاق المدارس کی تنظیمیں ہیں اور ان پانچوں تنظیموں کا اتحاد بھی ہے۔ تمام مکاتب فکر کے مدارس کے ’وفاق‘ کو بورڈ کی حیثیت حاصل ہے جو سالانہ امتحانات لینے اور اسناد دینے کا مجاز ہے۔ پانچوں وفاقوں کے اتحاد کے مرکزی رابطہ سیکریٹری مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کے مطابق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سمیت ملک بھر میں تیرہ ہزار مدارس میں دس لاکھ سے زیادہ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ بی بی سی، سے بات کرتے ہوئے انہوں دعویٰ کیا کہ تمام وفاقوں میں سے دیوبند مکتبہ فکر کے ’وفاق المدارس العربیہ پاکستان‘ کے نیٹ ورک میں سب سے زیادہ مدارس ہیں جن کی تعداد آٹھ ہزار سے زیادہ ہے۔ مولانا جالندھری کے بقول دیو بند مکتبہ فکر کے مدارس میں میٹرک سے ماسٹرز ڈگری کے مساوی تعلیمی درجات میں سال دو ہزار چار میں بیالیس ہزار چار سو پچاسی طالبات اور بتیس ہزار چار سو چھبیس طلباء نے امتحانات کے لیے اندراج کرایا۔ طلباء کے لیے ملک بھر میں اس وفاق کے زیرانتظام 267 امتحانی مراکز جبکہ طالبات کے لیے 393 مراکز قائم کیے گئے۔ مولانا جالندھری نے جو ملتان میں ایک بڑا مدرسہ چلاتے ہیں، دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں جس تیزی سے خواتین اور لڑکیوں کا دینی مدارس میں اندراج بڑھا ہے وہ شرح انگریزی تعلیم کے اندراج سے زیادہ ہے۔
وفاق المدارس العربیہ کے ماہانہ جریدے’وفاق المدارس‘ کے گزشتہ اگست کے شمارے میں شائع کردہ معلومات کے مطابق ان کے وفاق کے زیرانتظام مدارس میں سن چرانوے پچانوے میں 3723 طالبات مختلف درجات کے امتحان میں شریک ہوئیں۔ لیکن یہ تعداد ہر سال تیزی سے بڑھتے ہوئے سال دو ہزار چار میں بیالیس ہزار سے بھی زیادہ ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کے اندراج کی سالانہ شرح اضافہ، پچیس فیصد سے زیادہ ہے۔ مدارس میں طلباء کو بنین جبکہ طالبات کو بنات کہا جاتا ہے۔ مولانا جالندھری کے مطابق ماسٹرز ڈگری کے مساوی یعنی عالمیہ کے لیے سا دو ہزار چار میں 3145طلباء جبکہ 5624 طالبات، گریجوئیشن کے مساوی عالیہ درجے میں 5120 طلباء اور 7270 طالبات، انٹرمیڈیٹ کے مساوی یعنی خاصہ میں 8711 طلباء اور 12438 طالبات، میٹرک کے مساوی درجے عامہ میں 15450 طلباء اور 17153 طالبات کا امتحانات کے لیے اندراج ہوا۔ آٹھویں جماعت تک یعنی متوسطہ درجے کے امتحانات وفاق المدارس نہیں بلکہ متعلقہ مدارس خود لیتے ہیں۔ ان کی خاصی تعداد ہوتی ہے اور ان کا ریکارڈ بھی متعلقہ مدارس میں ہوتا ہے۔ خواتین میں دینی تعلیم کے رجحان میں اضافے کی وجوہات کے بارے میں مولانا جالندھری نے کہا کہ لوگوں میں شعور بڑھ رہا ہے کہ جہالت ختم ہونی چاہیے اور پڑھی لکھی خاتون کو معاشرے میں عزت ملتی ہے۔ ان کے بقول یہ ہی وجہ ہے کہ تعلیم کے حصول کو لازمی سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے عام لوگوں میں تعلیم کے حصول کے لیے آگہی پیدا کرنے کے بارے میں میڈیا کے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ٹی وی چینلز، ڈش اور کیبلز آنے سے بھی لوگوں میں تعلیم حاصل کرنے کی سوچ پیدا ہوئی ہے۔ دینی مدارس میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لیے تعلیم کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور فرقہ واریت گزشتہ دس سے پندرہ برس کے دوران پیدا ہوئی لیکن یہ مدارس قیام پاکستان سے پہلے سے کام کر رہے ہیں۔ لہٰذا ان کے مطابق مدارس کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ البتہ وہ کہتے ہیں کہ بعض فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والی سیاسی تنظیموں کا اس میں قصور ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مغربی میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ مدارس کے بارے میں غلط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایک دو مدرسے اس میں ملوث ہوں تو اس بنیاد پر تمام مدارس پر الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ بریلوی مکتبہ فکر کی’تنظیم المدارس پاکستان‘ ہو یا دیگر مکاتب فکر کے وفاقوں سے منسلک مدارس، ان میں بھی طالبات کی شرح میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ چند ماہ قبل پاکستان فوج کے چھ افسران جو القاعدہ سے مبینہ تعلقات کی بنا پر حکومت کی حراست میں ہیں، ان کے اہل خانہ بالخصوص خواتین نے لال مسجد کے سامنے احتجاج کے دوران اسامہ بن لادن اور ملاعمر کی کھلم کھلا حمایت میں نعرے لگائے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ ماہ پہلے اسلام آباد کی مرکزی لال مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید پر جب وفاقی دارالحکومت میں مبینہ طور پر دہشت گردی کی ناکام سازش کرنے کا حکومت نے الزام لگایا تھا اس وقت خواتین کے مدرسے’جامعہ حفسہ‘ کی طالبات نے پولیس کے خلاف ڈنڈے اٹھا لیے تھے۔ پاکستان میں دینی مدارس میں طالبات کی شرح اندراج میں اس اضافے کے رجحان کو اگر ’وومن طالبنائیزیشن‘ میں اضافہ کہا جائے تو بھی شاید غلط نہیں ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||