القاعدہ سے تعاون کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ مخدوم فیصل صالح حیات نے جماعت اسلامی کے بعض کارکنوں پر القاعدہ تنظیم کے ارکان سے تعاون کر نے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کئی غیر ملکیوں کو جماعت کے کارکنوں کے گھروں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے گزشتہ ایک ماہ میں بارہ غیر ملکیوں سمیت تریسٹھ مبینہ دہشت گردوں کی گرفتاریوں کا دعوی کیا اور کہا کہ ان میں سے کچھ غیر ملکی شدت پسند جماعت کے کارکنوں کے گھروں میں چھپے ہوئے تھے۔ پیر کی شام قومی اسمبلی میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی قیادت کو ان تعلقات کی وضاحت کرنا ہو گی تاہم انہوں نے جماعت اسلامی پر پابندی لگانے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ چودہ اگست کو یوم آزادی کی تقریبات پر حملوں کا منصوبہ بنایا گیا تھا جو کہ سکیورٹی حکام نے ناکام بنادیا اور متعلقہ افراد کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے بھاری اسلحہ بھی برآمد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں گلشن معمار کے علاقے میں پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق گول کیپر شاہد علی خان کے گھر سے القاعدہ کے ایک رابطہ کار جیک تھامس کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جیک تھامس آسٹریلوی شہری ہیں اور گرفتاری کے وقت وہ بینکاک روانہ ہونے والے تھے۔ وزیر داخلہ نے الزام لگایا کہ شاہد علی کی بیگم نےجو جماعت اسلامی کی رکن ہیں، جیک تھامس کو گھر میں پناہ دے رکھی تھی۔ جبکہ وزیر داخلہ کے مطابق دسمبر کے وسط میں لاہور جماعت اسلامی سے ہی تعلق رکھنے والے خواجہ برادران کی گرفتاری کے بعد القاعدہ کے یاسر الجزیری پکڑے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ کے سرکردہ رکن خالد شیخ محمد راولپنڈی میں واقع احمد عبدالقدوس کے گھر سے گرفتار ہوئے اور احمدعبدالقدوس کی بیگم کا تعلق بھی جماعت اسلامی سے ہے۔ وزیر کے مطابق ایک گرفتار خاتون مسمات ملوکاں جو کہ ایک ریٹائرڈ پولیس اہلکار کی بیگم ہیں ان کا خالد شیخ محمد سے رابطہ تھا۔ اس خاتوں نے ’نوید الاسلام ٹرسٹ‘ بھی بنا رکھی ہے جس کی سربراہ مسز شازیہ صدیق تھیں اور وہ بھی جماعت اسلامی کی ہیں۔ صدر جنرل پروویز مشرف پر حملے کے متعلق وزیر کا کہنا تھا کہ کل پندرہ سے بیس افراد گرفتار ہیں اور دو ملزمان جس میں ایک پاکستانی اور ایک غیر ملکی ہیں، روپوش ہیں۔ جبکہ وزیر خزانہ شوکت عزیز پر حملے کے ملزمان کی گرفتاری کا بھی انہوں نے دعویٰ کیا لیکن تفصیلات نہیں بتائیں۔ انہوں نے بلوچستان میں فوجی آپریشن کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں بعض شر پسند عناصر کے خلاف فرنٹیئر کور اور بلوچستان لیویز کے اہلکار کارروائی کر رہے ہیں۔ وزیر نے بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||