ایم ایم اے کے تین مقامی گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد میں پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے ایک مشترکہ آپریشن میں میں متحدہ مجلس عمل کے تین مقامی رہنماؤں کو القاعدہ سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار کیے جانے والوں میں فیصل آباد سے ایم ایم اے کے صدر قاری عبید اللہ گرمانی بھی شامل ہیں۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایم ایم اے کے رہنماؤں کی گرفتاریوں پر ان کے حامیوں نے احتجاج کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حقائق سامنے لے کر آئے۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ رات پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس، مقامی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے فیصل آباد میں گاؤ شالا موڑ کے قریب مبارک مسجد پر ایک مشترکہ آپریشن کیا۔ اس آپریشن کے دوران متحدہ مجلس عمل کے فیصل آباد کے صدر اور جمیعت علمائے اسلام (سمیح الحق) گروپ کے رہنما قاری عبید اللہ گرمانی کو گرفتار کر کیا گیا۔ جبکہ ایم ایم اے کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ اس سے پہلے مبارک مسجد کے قاری نور محمد اور مسجد سے منسلک ان کے مدرسے کے نگران قاری امام دین کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ تاہم پولیس یا سرکاری طور پر ان کی گرفتاریوں کی وضاحت نہیں کی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||