BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 August, 2004, 00:41 GMT 05:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
القاعدہ کا ’سربراہ‘ اجلاس
عالمی مالیاتی اداروں کی عمارتوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔
عالمی مالیاتی اداروں کی عمارتوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔
امریکی جریدے ’ٹائم میگزین‘ نے صدر جنرل پرویز مشرف کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اس سال مارچ میں القاعدہ تنظیم کے رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ہوا تھا جہاں انہوں نے ستمبر گیارہ کی طرز پر نئی دہشت گرد کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

پاکستانی صدر پرویز مشرف نے القاعدہ کے رہنماؤں کے اس اجلاس کے بارے میں کہا کہ یہ القاعدہ کے دوسری صف کے ارکان تھے ۔

ٹائم کے مطابق صدر مشرف نے کہا کہ یہ ملاقات اور اس میں شریک لوگ اور بم بنانے والے ایک ماہر کی موجودگی، یہ سب باتیں بہت اہم ہیں۔

اس ملاقات میں شریک انتیس سالہ محمد بابر کو پاکستان سے امریکہ پہنچنے کے تھوڑے دن بعد اپریل میں نیویارک کے علاقے کوئینز سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان پر برطانیہ میں ممکنہ اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے دھماکہ خیز مواد خریدنے کا الزام ہے۔

القاعدہ تنظیم کی اس ملاقات میں شریک ایک اور رہنما الہندی کو برطانیہ میں کچھ ہفتے قبل گرفتار کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق الہندی پاکستان میں پکڑے جانے والے القاعدہ کے کمپیوٹر کے ماہر نعیم نورخان سے ای میل کے ذریعے رابطے میں تھا۔ نعیم نور خان کے کمپیوٹر سے ملنے والی معلومات کے مطابق القاعدہ ہیلی کاپٹروں اور لیموزینز کے ذریعے نیویارک اور واشنگٹن میں مختلف اہم عمارتوں کو نشانہ بنانا چاہتی تھی۔

ان ہی معلومات کی بنا پر واشنگٹن اور نیویارک میں عالمی مالیاتی اداروں اور کچھ بینکوں کی عمارتوں پر حفاظتی انتظامات کو سخت کر دیا گیا تھا۔

تاہم اس ملاقات میں شریک کچھ اور رہنما ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے جن میں عدنان الشکری جمعہ بھی ہیں۔ الشکری جمعہ جنوبی امریکہ میں واقع ایک چھوٹے سے ملک گویانہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے فلوریڈا میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہسپانوی اور انگریزی بڑی روانی سے بولتے ہیں اور ان کے پاس کئی ملکوں کے پاسپورٹ ہیں۔

امریکی حکام نے ملاقات میں شریک لوگوں کو ’ بے رحم قاتل‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ لوگ اپنے کام میں ماہر ہیں اور ان میں امریکہ کے خلاف اتنے شدید جذبات ہیں کہ وہ امریکہ کو زیادہ سے زیادہ نقصان اور اذیت پہنچانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد