BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 August, 2004, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’3 وفاقی وزیروں کی قتل سازش‘

فیصل صالح حیات
پاکستان میں سکیورٹی حکام نے تین وفاقی وزراء کو قتل کرنے کے متعلق القاعدہ کے شدت پسندوں کے مبینہ منصوبے کا پتہ لگایا ہے جس کے بعد متعلقہ وزراء کے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور ان کو اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

پاکستان کے ایک وفاقی وزیر نے اتوار کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ حال ہی میں القاعدہ سے تعلقات کے شبہے میں گرفتار ہونے والے افراد نے انکشاف کیا ہے کہ تین وفاقی وزراء کو جن میں وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، وزیر داخلہ فیصل صالح حیات اور وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد شامل ہیں ،جان سے مارنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

وفاقی وزیرنے اپنا نام ظاہر کرنے سے معذوری ظاہر کی۔

پاکستانی وزارتی ذرائع نے بتایا کہ قتل کے اس منصوبے پر یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر عمل ہونا تھا لیکن القاعدہ کے بعض اراکان کی گرفتاری کی وجہ سے منصوبے کا انکشاف ہو گیا۔

سیکیورٹی حکام نے متعلقہ وزراء کو سرگرمیاں محدود کرنے کا مشورہ دیا اور ان کے حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کردیا گیا۔

اس ضمن میں وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ جن وزراء کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے انہیں ’بلٹ پروف، گاڑیاں فراہم کی جائیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں سے تعلقات کے شبہے میں گزشتہ چند ماہ میں کئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں القاعدہ کے کمپیوٹر کے کاموں سے منسلک پاکستانی شہری نعیم نور خان اور تنزانیہ کے شہری احمد خلفان غلانی بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد