BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 August, 2004, 14:11 GMT 19:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریکارڈ نمبرمیں ’دہشت گرد‘گرفتار

پاکستان فوج
پاکستان فوج نے جنوبی وزیرستان میں اپنی کارروائی جاری رکھی ہے
آجکل پاکستان کے اعلیٰ حکام روزانہ القاعدہ کے دہشت گردوں کے گرفتار کیے جانے کے اعلانات کر رہے ہیں اور پاکستان کی کامیابیوں کو اجاگر کیا جارہا ہے۔ شائد یہ محض اتفاق ہے کہ جوں جوں نومبر میں امریکہ کے صدارتی انتخابات اور دسمبر میں صدر جنرل پرویز مشرف کے وردی اتارنے کی آئین کے مطابق حتمی تاریخ قریب آ رہی ہے پاکستان میں دہشت گردوں کی گرفتاریوں میں شدت اور تسلسل آتا جارہا ہے۔

صدر پرویز مشرف نے انگریزی روزنامہ ڈان کو دیے گۓ خصوصی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہورہا ہے اور ردعمل کے طور پر ملک میں دہشت گردی کی مزید کارروائیاں ہوسکتی ہیں۔

دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں پنجاب سے القاعدہ کے اہم دہشت گرد پکڑے گۓ ہیں جن میں احمد خلفان کے علاوہ پانچ اور لوگ بھی ہیں اور ان سے اہم معلومات ملی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کل بیس دہشت گرد پکڑے گۓ ہیں اور ان سے پاکستانی ایجسنیاں تفتیش کررہی ہیں۔

دو روز پہلے وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کا لاہور میں کہنا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے اہم دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے اور ریکارڈ نمبر میں گرفتاریاں کی گئی ہیں جس کا پاکستان کو کریڈٹ ملنا چاہیے۔ انھوں نے یہ شکوہ بھی کیا تھا کہ اس کے باجود دنیا میں پاکستان پر شک کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے نیٹ ورک میں داخل ہوگیا ہے جس کا ردعمل ہو رہا ہے۔ ان کا اشارہ اہم سرکاری افراد جیسے نامزد وزیراعظم شوکت عزیز اور کور کمانڈر کراچی پر گزشتہ چند ہفتوں کے دوران میں کیے گۓ قاتلانہ حملوں کی طرف تھا۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ دہشت گردی کے شدید حملوں میں صدر جنرل پرویز مشرف، کراچی کے کور کمانڈر، نامزد وزیراعظم شوکت عزیز وغیرہ محفوظ رہے اور ان کے ڈرائیور اور انکے ساتھ محافظ وغیرہ ہی ہلاک ہوۓ۔

حالیہ چند ماہ کی گرفتاریوں سے پہلے حکومت سرکاری طور پر یہ کہتی آئی ہے کہ وہ ستمبر گیارہ سنہ دو ہزار ایک میں امریکہ پر حملوں کے بعد سے پانچ سو سے زیادہ مبینہ دہشت گرد امریکہ کے حوالے کرچکی ہے۔ اب شاید ان کی تعداد اور زیادہ ہوجاۓ۔

القاعدہ کے جتنے بھی مبینہ دہشت گرد پکڑے گۓ ہیں انھیں کبھی پریس کے سامنے پیش تو نہیں کیا گیا اور نہ ان کو کسی قانونی امداد کے لیے کسی وکیل سے ملنے دیا گیا یا ریمانڈ کے لیے کسی کھلی عدالت میں پیش کیا گیا چاہے وہ سنہ دو ہزار دو میں فیصل آباد سے مبینہ طور پر پکڑے گۓ ابو زبیدہ ہوں یا راولپنڈی سے پکڑے گۓ شیخ خالد سعید یا کراچی سے پکڑا گیا ان کا بھتیجا مصرب آروچی یا عطا اللہ (جو کراچی میں شعیہ مسجد پر بم دھماکے کا بڑا ملزم بتایا جاتا ہے) یا رمزی بن الشبیہ یا گزشتہ پچیس جولائی کو گجرات سے پکڑا جانے والا احمد خلفان غیلانی۔

جب بھی کوئی مبینہ دہشت گرد (گجرات جیسے کسی مقابلہ کے بغیر) پکڑاجاتا ہے تو پہلے انٹیلی جنس کے ذرائع سے غیر مصدقہ خبر اخباروں میں شائع ہوتی ہے جس کی پولیس تصدیق کرنے سے انکار یا معذرت کردیتی ہے۔ بعد میں غیرملکی، برطانوی اور امریکی اخباروں میں خبریں شائع ہوتی ہیں جیسے بارہ جولائی کو لاہور ائرپورٹ سے القاعدہ سے تعلق رکھنے کے ملزم کمپیوٹر انجینر نعیم نور خان، جن کے والد پی آئی اے میں ملازم ہیں کی خبر غیرملکی اخباروں میں شائع ہوئی تو وزیر اطلاعات نے اس کی تصدیق کی اور وزیر داخلہ نے تردید۔ سب سے آخرمیں پاکستانی قوم کو اپنی حکومت سے کسی مبینہ دہشت گرد کی گرفتاری کا پتا چلتا ہے۔

ابھی یہ دعوی کیا گیا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں میں جنوبی افریقہ کے دو باشندے بھی شامل ہیں جو جنوبی افریقہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہے تھے جس پر جنوبی افریقہ کی حکومت نے پاکستان حکومت سے احتجاج کیا ہے کہ اس نے پہلے حکومتی سطح پر یہ معلومات دیے بغیر انھیں نشر کیوں کیا۔

وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ جو پاکستان کے باشندے ہیں ان کے قانونی اور آئینی حقوق ہیں تاہم جو غیرملکی پکڑے جاتے ہیں ان کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کے بقول وہ آئینی امور کے ماہر نہیں۔

وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ پکڑنےکے چند دنوں بعد ان لوگوں کی گرفتاری ظاہر کردی جاتی ہے اور نام وغیرہ فوری طور پر اس لیے نہیں بتاۓ جاتے تاکہ ان کے دوسرے ساتھیوں کو ٹی وی ریڈیو سے پتا نہ چل سکے اور ان کو بھی پکڑا جا سکے۔

ان دنوں جس طرح وفاقی وزرا دہشت گردوں کے پکڑے جانے کے دھڑا دھڑ اعلانات کررہے ہیں، پنجاب میں مساجد اور مدسوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور جمعہ کے خطبوں میں امریکہ مخالف تقریریں کرنے والے علما کے خلاف لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کے مقدمے بناۓ جارہے ہیں اس سے یوں لگتا ہے کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے اور صدر جنرل پرویزمشرف اس جنگ کے سپہ سالار۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد