’امریکی الرٹ کا ہم سے کوئی تعلق نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے مطابق امریکی الرٹ کا پاکستان سے حاصل ہونے والی معلومات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی بی سی اردو سروس سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ہنگامی حالات کا اعلان بش انتظامیہ کی اپنی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مسٹر فیصل صالح حیات نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف قائم عالمی اتحاد کا حصہ ہے اور وہ امریکہ سمیت اپنے دیگر اتحادیوں سے خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتا رہتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کا امریکہ میں ہونے والی تازہ ترین الرٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’یہ امریکی حکومت کی اپنی حکمت عملی کا حصہ ہے جس پر وہ عمل درآمد کرتا رہتا ہے۔‘ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیوں نے اپنی تازہ کارروائی میں احمد خلفان کے علاوہ القاعدہ کے دو اور سرکردہ کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے ان میں سے ایک ایسا ہے جس کے سر کی قیمت امریکہ نے کئی ملین ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق یہ دونوں اشخاص افریقی نژاد ہیں جو کچھ عرصے سے پاکستان میں قیام پذیر تھے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے القاعدہ کے اراکین سے خاصی اہمیت کی حامل معلومات ملی ہے جس بنا پر صوبہ پنجاب کے بعض شہروں میں کارروائی ہو رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||