’الرٹ سے پاکستان کا تعلق نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے مطابق امریکی الرٹ کا پاکستان سے حاصل ہونے والی معلومات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی بی سی اردو سروس سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ہنگامی حالات کا اعلان بش انتظامیہ کی اپنی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مسٹر فیصل صالح حیات نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف قائم عالمی اتحاد کا حصہ ہے اور وہ امریکہ سمیت اپنے دیگر اتحادیوں سے خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتا رہتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کا امریکہ میں ہونے والی تازہ ترین الرٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’یہ امریکی حکومت کی اپنی حکمت عملی کا حصہ ہے جس پر وہ عمل درآمد کرتی رہتی ہے۔‘ وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے بھی کہا ہے کہ خلفان غلانی کے بارے میں اطلاعات کا گرچہ امریکی حکومت کے ساتھ تبادلہ کیا گیا ہے تاہم کسی بھی پاکستانی اہلکار نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ان اطلاعات میں امریکہ اور برطانیہ میں مستقبل میں حملوں کے خطرے کے بارے میں کوئی بات تھی۔ منگل کے روز امریکی حکام نے اعتراف کیا کہ جو تازہ ترین ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا تھا اس میں چار سال قبل حاصل ہونیوالی اطلاعات کا استعمال کیا گیا تھا۔ خلفان غلانی کو گزشتہ پچیس جولائی کو گجرات شہر سے ایک کارروائی کے دوران پکڑا گیا تھا۔ وہ مشرقی افریقہ کے ممالک تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر انیس سو اٹھانوے میں ہونے والے دھماکوں کیلئے امریکی حکومت کو مطلوب تھا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں نے اپنی تازہ کارروائی میں احمد خلفان غلانی کے علاوہ القاعدہ کے دو اور سرکردہ کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے ان میں سے ایک ایسا ہے جس کے سر کی قیمت امریکہ نے کئی ملین ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق یہ دونوں اشخاص افریقی نژاد ہیں جو کچھ عرصے سے پاکستان میں قیام پذیر تھے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے القاعدہ کے اراکین سے خاصی اہمیت کی حامل معلومات ملی ہے جس بنا پر صوبہ پنجاب کے بعض شہروں میں کارروائی ہو رہی ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ حالیہ دنوں میں تمام گرفتاریاں صوبہ پنجاب میں پیش آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان گرفتاریوں سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز القاعدہ کی نیٹ ورک کو توڑنے میں کامیاب رہے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حالیہ دنوں میں گرفتار شدہ افراد میں نعیم نور خان نامی ایک شخص بھی ہے جو کمپیوٹر کا ماہر ہے اور القاعدہ سے تعلق رکھتا ہے۔ لاہور کے قریب ایک شخص کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ملک چھوڑنے کی تیاری میں تھا اور پاکستانی اہلکاروں کے مطابق وہ عربی بولتا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی رہائش گاہ پر تعینات ایک پولیس اہلکار کو بھی القاعدہ سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں القاعدہ کے خلاف پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران سینکڑوں فوٹو، دستاویزات، بارود کے اثرات، اہم مغربی مقامات کے نقشے، حساس ای۔میل، وغیرہ برآمد کیے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||