القاعدہ ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جن کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے۔ گرفتار ہونے والوں کی شہریت کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی گئی۔ لیکن پاکستانی اخبارات کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں دو ترک اور عراقی باشندوں سمیت القاعدہ اور عسکریت پسندوں سے تعلق کے شبہ میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو روز میں القاعدہ کے چار سے پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے افراد کی شہریت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ تفتیش کے دوران یہ لوگ شہریت کے بارے میں بیان بدلتے رہتے ہیں۔ اخبارات نے انٹیلیجنس اداروں کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ لاہور سے کالعدم جہادی تنظیم حرکت جہاد اسلامی کے سرگرم رکن محمد عاطف کو گرفتار کیا گیا ہے اور سیالکوٹ سے صدر جنرل پرویز مشرف پر حملہ کے الزام میں دبئی سے گرفتار کیے جانے والے قاری سیف اللہ کے ساتھی ارشد عرف سکندر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ارشد عرف سکندر کا تعلق سندھ کے ضلع سانگھڑ سے بتایا جاتا ہے اور وہ سیالکوٹ کے ایک گاؤں سے گرفتار کیے گئے ہیں۔ سیالکوٹ پولیس کے مطابق ان سے بارہ راکٹ، تین راکٹ لانچرز، دو کلاشنکوف، تین پستول اور چار سو گولیاں برآمد ہوئیں۔ اخبارات نے دو ترک باشندنوں کی گرفتاری کی خبر بھی دی ہے جن میں یلماز عرف خالد بھی شامل ہیں جن کا شمار القاعدہ کے بڑے منصوبہ سازوں میں ہوتا ہ۔ وہ مبینہ طور پر احمد خلفان اور نعیم نور خان کے ساتھ مل کر کام کرتے تھے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے لاہور سے دو ترک باشندوں کی گرفتاری کے بارے میں ایک پاکستانی اہلکار کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ سیکیورٹی حکام کو شبہ ہے کہ یہ ترک باشندہ گزشتہ سال نومبر میں استنبول میں بم دھماکوں میں ملوث ہوسکتا ہے جس میں ساٹھ افراد ہلاک ہوگۓ تھے۔ اے پی نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ ترک سفارت خانہ کے ایک سفارت کار نے نام نہ بتانے کی شرط پر یہ تصدیق کی ہے کہ سفارت خانہ نے پاکستان سے ان ترک باشندوں تک رسائی کی درخواست کی ہے۔ پاکستان میں انگریزی زبان کے روزنامہ ڈان نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ شکڑ گڑھ سے دو عراقی باشندے محمد سلیمان اور سالم محمودگرفتار کیے گۓ ہیں۔ ناروروال کے قائم مقام ضلعی پولیس آفیسر نے اخبار کو بتایا کہ ان باشندوں کے پاس سفری دستاویزت نہیں تھیں بلکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے دیئے ہوئے کاغذ تھے جو صرف اسلام آباد کے لیے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ باشندے عراقی عسکریت پسندوں کے لیے چندہ جمع کررہے تھے۔ پاکستانی حکام عام طور پر فوری طور پر مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری کی باقاعدہ تصدیق نہیں کرتے اور پہلے انٹیلی جنس ذرائع سے یہ خبریں اخبارات میں شائع ہوتی ہیںاور کئی دنوں بعد ان کی تصدیق کی جاتی ہے۔ چند ہفتوں سے پاکستان میں دہشت گردوں کی گرفتاری کی خبروں میں تیزی آگئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||