کراچی دھماکے: کوئی سراغ نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کو کراچی میں ہونے والے دھماکوں کے چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی پولیس کو کوئی سراغ نہیں ملا۔ کراچی پولیسں کے سربراہ طارق جمیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس ابھی اس پوزیشن میں نہیں کہ یہ بتا سکے کہ ان دھماکوں کا ذمہ دار کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ان دھماکوں کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہی ہے۔ وہ یہ تلاش کر رہے ہیں کہ آیا ان کا تعلق فرقہ واریت سے ہے یا پچھلے کچھ عرصے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں یا ملک میں غیر ملکی مفادات کو نشانہ بنانے کے واقعات سے ہے۔ اتوار کو دھماکوں میں ہلاک ہونے والے پانچ افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ایک مدرسے کے باہر ہونے والے دھماکے میں ہلاک شدہ تین افراد کی لاشیں صوبہ پنجاب میں ان کے گھروں کو بھجوا دی گئی ہیں۔ جنازوں سے پہلے شہر کی تمام مسجدوں میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے تھے۔ پولیس نے جامع بنوری مدرسہ، جہاں اتوار کو دھماکہ ہوا، کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور شہر کے تمام اہم چوراہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان دھماکوں میں القاعدہ ملوث نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’القاعدہ مذہبی جگہ اور لوگوں کو کیوں نشانہ بناے گا۔ وہ شہر میں دہشت پھیلانے کے لیے بھی مذہبی طلبا پر حملہ نہیں کرے گا‘۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے اتوار کو ہونے والے دھماکوں کی منصوبہ بندی انتہائی مہارت سے کی گئی تھی۔ ان میں دو بم اس طرح استعمال کیے گئے تھے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ ابھی تک کسی نے بھی ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ بنوری مدرسے کو فرقہ وارنہ مسائل سے سامنا رہا ہے۔ مئی میں اس کے رہنما مفتی نظام الدین شام زئی کو قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد ان کے ہزاروں حمایتیوں نے شہر میں ہنگامے کیے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||