BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 August, 2004, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آپریشن: امریکہ سے احتجاج
منیر اکرم
دفتر خارجہ کے مطابق امریکی اقدام سے پاکستانی سفیر منیر اکرم کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا
پاکستان نے اقوام متحدہ میں اپنے سفیر کے فرضی قتل سے متعلق آپریشن پر امریکہ سے سخت احتجاج کیا ہے۔

پیر کے روز ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا کہ پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور ان کے خلاف ایسی مشق کرنا غلط ہے۔

مسعود خان نے کہا کہ امریکی اقدام سے پاکستان کے سفیر اور مشن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایف بی آئی کے اہلکار کیا وہ کسی امریکی کے خلاف اس طرح کرسکتے ہیں؟

بھارت کے ساتھ جاری مذاکرات کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بات چیت کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے’ٹاپ لیول پش‘ یعنی اعلیٰ سطح سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں جاری مذاکرات کو مناسب مدت کے اندر معنی خیز بنانا ہوگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ’ٹائم فریم‘ کی بات نہیں کرتے بلکہ ’مناسب مدت‘ کی بات کرتے ہیں جسے پیشگی شرط نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ ان کے بقول غیر معینہ مدت تک بات چیت کو طول نہیں دیا جاسکتا۔

ان کے بقول دونوں ممالک میں مذاکرات کی ماضی کی تاریخ مایوس کن رہی ہے اور اب جب معنی خیز مذاکرات ہو رہے ہیں تو مناسب مدت کا سوال بھی پیدا ہو رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں مختلف امور پر جاری حالیہ بات چیت میں فوری بریک تھرو کی امید نہیں کیونکہ ’جامع مذاکرات‘ کے فریم ورک کے تحت یہ عمومی نوعیت کی بات چیت ہے۔

تاہم انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بات چیت میں دیکھنا یہ ہے کہ پیش رفت کیا ہورہی ہے اور پاکستان سمجھتا ہے کہ پیش رفت ہورہی ہے۔

ترجمان نے ایک موقع پر کہا کہ ان کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ وزراخارجہ کی ملاقات تک قدم بقدم آگے بڑھنے کی حکم عملی پر عمل پیرا ہیں۔

مسعود خان نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیاں جامع مذاکرات کے سلسلے میں ’دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے متعلق دونوں ممالک کے داخلہ سیکریٹریوں کی سطح پر بات چیت دس اور گیارہ اگست جبکہ تجارتی تعاون کے متعلق مذاکرات گیارہ اور بارہ اگست کو اسلام آباد میں ہوں گے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری کے دورہ ایران کے متعلق ترجمان نے بتایا کہ دو طرفہ تعلقات بشمول ایران سے براستہ پاکستان بھارت تک گیس پائپ لائن کے معاملات پر مہمان ملک کے حکام سے تفصیلی اور اطمینان بخش بات چیت ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد