برطانیہ اور سعودیہ میں گرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے برطانیہ میں ایک ایسے شخص کو گرفتار کرلیا ہے جو دہشت گردی کے الزام میں امریکہ کو مطلوب ہے۔ اس شخص کا نام بابر احمد بتایا گیا ہے۔ امریکہ نے اس کو حوالے کرنے کی درخواست کی تھی جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ آج اسے عدالت میں پیش کیا جاۓ گا۔ بابر احمد پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ میں 1998 سے 2003 تک ای میل اور انٹر نیٹ کے ذریعہ رقومات جمع کرنے کا کام کیا تھا جو چیچنیا اور افغانستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لۓ استعمال ہوئی تھیں۔ اس اثنا میں امریکی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ برطانیہ میں حراست میں لیا جانے والا ایک اور شخص القاعدہ کا اہم کارکن ہے ۔ امریکی حکام کہتے ہیں یہ ان بارہ افراد میں شامل ہے جنہیں منگل کو برطانوی پولیس نے چھاپوں کے دوران حراست میں لیا تھا۔ سعودی سکیورٹی افواج کا کہنا ہے کہ فارس الزہرانی کو دارالسلطنت ریاض سے آٹھ سو کلو میٹر دور گرفتار کیا گیا ہے ۔اہم ترین عسکریت پسندوں کی سعودی فہرست میں ان کا چھبیسواں نمبر ہے جن میں سے بارہ ابھی تک نہیں پکڑے گئے ہیں۔ سکیورٹی فوجوں نے بتایا کہ فارس الزہرانی کو ایک پہاڑی قصبے کے ایک قہوہ خانے میں بیٹھا دیکھا گیا تھا اور انہوں نے گرفتاری کے وقت کوئی مزاحمت نہیں کی۔ سعودی فہرست کے چھبیس ناموں میں تین عالموں کے نام تھے جن میں ایک فارس الزہرانی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ القاعدہ کے پیشوا عبد العزیز المقرن جب جون میں سکیورٹی فوج کی گولیوں سے ہلاک ہوگئے تو انہوں نے القاعدہ کی رہنمائی کا کام سنبھال لیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||