BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 August, 2004, 01:07 GMT 06:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ اور سعودیہ میں گرفتاریاں
القاعدہ گرفتاریاں
برطانیہ سے گرفتار ہونے والے بابر احمد کو جمعہ کے روز عدالت میں پیش کیا جاۓ گا
پولیس نے برطانیہ میں ایک ایسے شخص کو گرفتار کرلیا ہے جو دہشت گردی کے الزام میں امریکہ کو مطلوب ہے۔

اس شخص کا نام بابر احمد بتایا گیا ہے۔ امریکہ نے اس کو حوالے کرنے کی درخواست کی تھی جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ آج اسے عدالت میں پیش کیا جاۓ گا۔

بابر احمد پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ میں 1998 سے 2003 تک ای میل اور انٹر نیٹ کے ذریعہ رقومات جمع کرنے کا کام کیا تھا جو چیچنیا اور افغانستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لۓ استعمال ہوئی تھیں۔

اس اثنا میں امریکی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ برطانیہ میں حراست میں لیا جانے والا ایک اور شخص القاعدہ کا اہم کارکن ہے ۔

امریکی حکام کہتے ہیں یہ ان بارہ افراد میں شامل ہے جنہیں منگل کو برطانوی پولیس نے چھاپوں کے دوران حراست میں لیا تھا۔
سعودی عرب سے اطلاعات آئی ہیں کہ سکیورٹی فوجوں نے ایک اہم عسکریت پسند کو پکڑ لیا ہے۔

سعودی سکیورٹی افواج کا کہنا ہے کہ فارس الزہرانی کو دارالسلطنت ریاض سے آٹھ سو کلو میٹر دور گرفتار کیا گیا ہے ۔اہم ترین عسکریت پسندوں کی سعودی فہرست میں ان کا چھبیسواں نمبر ہے جن میں سے بارہ ابھی تک نہیں پکڑے گئے ہیں۔

سکیورٹی فوجوں نے بتایا کہ فارس الزہرانی کو ایک پہاڑی قصبے کے ایک قہوہ خانے میں بیٹھا دیکھا گیا تھا اور انہوں نے گرفتاری کے وقت کوئی مزاحمت نہیں کی۔

سعودی فہرست کے چھبیس ناموں میں تین عالموں کے نام تھے جن میں ایک فارس الزہرانی تھا۔

کہا جاتا ہے کہ القاعدہ کے پیشوا عبد العزیز المقرن جب جون میں سکیورٹی فوج کی گولیوں سے ہلاک ہوگئے تو انہوں نے القاعدہ کی رہنمائی کا کام سنبھال لیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد