’ریاض دھماکوں میں القاعدہ کا ہاتھ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی حکام نے بدھ کے روز دارالحکومت ریاض میں ہونے والے کار بم دھماکے کا الزام القاعدہ پر عائد کیا ہے۔ اس دھماکہ میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک جبکہ ایک سو اڑتالیس زخمی ہوگئے تھے۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک اعلیٰ سعودی اہلکار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سوال کیا: ’کون شہروں میں خودکش حملہ بھیجتا ہے؟‘۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ دھماکہ جس طریقے سے کیا گیا اس سے یہ القاعدہ کی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔ امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ اس دھماکے کے ذمہ دار افراد ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’آج کا دھماکہ اس بات کی یاددہانی ہے کہ کچھ لوگ موجودہ حکومت کے درپے ہیں۔ اور وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔‘ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں جائے وقوعہ سے ایک خودکش حملہ آور کی لاش ملی ہے جبکہ موقع پر موجود ایک شخص کا کہنا تھا کہ اس نے سعودی عرب کی سکیورٹی فورس کے دفتر کے باہر ایک کار کو حفاظتی جنگلے کی طرف جاتے دیکھا تھا اور جب محافظوں نے کار روکی تو وہ دھماکے سے پھٹ گئی۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اسے قرب و جوار میں واقع عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور وہاں کھڑی کئی گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے سیکورٹی اہلکاروں اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں اور ریاض میں بارود سے بھری کم از کم پانچ گاڑیاں پکڑی گئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکہ نے اپنے غیر ضروری سفارتی عملے کو ریاض سے نکل جانے کو کہا تھا۔ پیر کو کابینہ کے ایک اجلاس میں ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے کہا تھا کہ دہشت گردی سے سختی سے نبٹا جائے گا۔ مشرق وسطی کے لئے بی بی سی کے نامہ نگارپال ووڈ کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سعودی شاہی خاندان کو یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ گزشتہ سال مئی اور نومبر ریاض میں دو شدید خودکش دھماکے ہوئے تھے جن میں مجموعی طور پر اکاون افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||