اصلاحات: امریکی مطالبہ پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے مشرق وسطیٰ میں جمہوری اصلاحات کے لئے امریکی مطالبہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عرب ممالک اپنے مسائل سے خود نمٹ سکتے ہیں۔ ان کا یہ بیان امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کے دورۂ سعود عرب کے دو روز بعد آیا ہے۔ دارالحکومت ریاض میں انہوں نے کہا کہ امریکی تجاویز میں اس بات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ عربوں کی اپنی ثقافت ہے جس کی جڑیں تاریخ میں انتہائی گہری ہیں اور یہ کہ وہ اپنے معاملات خود چلانا جانتے ہیں۔ اتوار کے روز حکومت نے ان تیرہ سیاسی کارکنوں میں سے سات کو رہا کر دیا جنہیں گزشتہ ہفتے ملک میں اصلاحات لانے کے مطالبہ پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اس اقدام سے ریاض اور واشنگٹن کے تعلقات میں کچھ تناؤ پیدا ہوگیا تھا کیونکہ امریکی وزارت خارجہ نے ان حراستوں کو دقیانوسی اور مایوس کن فعل قرار دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ افراد کو اس شرط پر رہا کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ نہ تو اصلاحات کی کسی قرارداد پر دستخط کریں گے اور نہ ہی ذرائع ابلاغ سے بات کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||