ریاض میں دھماکہ: دس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک زور دار دھماکہ ہوا ہے جس میں کم از کم دس افراد کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ سعودی حکام نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں جائے وقوعہ سے ایک خودکش حملہ آور کی لاش ملی ہے۔ موقع پر موجود ایک شخص کا کہنا ہے کہ اس نے سعودی عرب کی سیکورٹی فورس کے دفتر کے باہر ایک کار کو حفاظتی جنگلے کی طرف جاتے دیکھا اور جب محافظوں نے کار روکی تو وہ دھماکے سے پھٹ گئی۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اسے قرب و جوار میں واقع عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور وہاں کھڑی کئی گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے سیکورٹی اہلکاروں اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں اور ریاض میں بارود سے بھری کم از کم پانچ گاڑیاں پکڑی گئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکہ نے اپنے غیر ضروری سفارتی عملے کو ریاض سے نکل جانے کو کہا تھا۔ پیر کو کابینہ کے ایک اجلاس میں ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے کہا تھا کہ دہشت گردی سے سختی سے نبٹا جائے گا۔ مشرق وسطی کے لئے بی بی سی کے نامہ نگارپال ووڈ کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سعودی شاہی خاندان کو یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ گزشتہ سال مئی اور نومبر ریاض میں دو شدید خودکش دھماکے ہوئے تھے جن میں مجموعی طور پر اکاون افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||