سعودی عرب سے امریکی انخلاء | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ ولن پاول نے کہا ہے کہ انہوں نے لازمی عملے کے سوا تمام امریکی سفارتکاروں کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ حکم سلامتی سے متعلق خدشات کے پیش نظر دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے اس حکم کا اطلاق دارالحکومت ریاض واقع امریکی سفارتخانے اور جدہ اور دہران کے قونصل خانوں میں تعینات امریکی سفارتی عملے کے اہل خانہ پر بھی ہوگا۔ منگل کو دارالحکومت ریاض میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور حکام نے دھماکہ خیز مواد سے لدی دو گاڑیوں کو قبضے میں لے لیا تھا۔ سعودی صحافی راشد حسین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکی سفارتکاروں کے انخلاء کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی حکام اور انتہا پسندوں کے درمیان متوتر مقابلوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سوموار، منگل اور بدھ کو سعودی سیکیورٹی کے اہلکاروں اور انتہا پسندوں کے درمیان مقابلوں میں چھ اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور اب تک کوئی گرفتاری ممکن نہیں ہو سکی۔ راشد حسین کا کہنا ہے دو روز قبل امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ارد گرد پر نظر رکھیں اور ہوشیار رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کی کوششوں کے برخلاف امریکی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||