سعودی عرب: ڈیڑھ لاکھ درانداز گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں گزشتہ تین ماہ کے دوران سلطنت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے ڈیڑھ لاکھ افراد کو جن میں اٹھارہ سو اسمگلر بھی شامل ہیں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سعودی اخبارات نے سرحدوں پر گشت کرنے والے پولیس اہلکار کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مہم شروع کئے جانے کے بعد سے سرحدوں کی بھی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلطنت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کے علاوہ بڑی تعداد میں اسلحہ ، بارود اور منشیات کو بھی قبضے میں لیا جا چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اسلحہ بارود سعودی عرب میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
سرکاری رپورٹس میں اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں فراہم کی گئی کہ یہ گرفتاریاں کس سرحد پر عمل میں لائی گئی ہیں لیکن حکومت وقتاً فوقتاً یہ اطلاعات فراہم کرتی رہی ہیں کہ ان میں زیادہ تر کارروائیاں یمن کی سرحد پر کی گئی ہیں۔ اس دوران قبضے میں لیے گئے اسلحہ میں مختلف قسم کے اکہتر ہتھیار، چھ ہزار گولیاں، سو بارودوی چھڑیاں ، تاروں کے سو بنڈل اور گرنیڈ شامل ہیں۔ الحیات اخبار کے مطابق سات ہزار ہتھیار بھی پکڑے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھاری تعداد میں منشیات جن میں شراب اور بیئر کی بوتلیں بھی شامل ہیں پکڑی گئی ہیں۔ سعودی اور یمنی حکام نے دو روزہ مذاکرات کے بعد ان دراندازیوں اور اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سعودی عرب اور یمن کی سرحد پر مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ سعودی حکام کا خیال ہے کہ ملک میں گزشتہ سال ہونے والے دہشت گردی میں ملوث افراد یمن کی سرحد سے ہی سعودی عرب میں داخل ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ کئی ماہ میں سعودی عرب میں دہشت گردی کی بہت سی کارروائیوں کو عالمی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر روابط کی بنا پر ناکام بنایا جا چکا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سوئٹزرلینڈ اور پاکستان کے تعاون سے ایک ایسی ٹیلی فون چپ کے پکڑے جانے سے جس کے ذریعے دہشت گرد رابطے قائم کرتے تھے، انڈونیشا اور سعودی عرب میں کئی وارداتوں کو ناکام بنایا جاچکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||