BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 November, 2003, 11:48 GMT 16:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سعودی عرب، مزید حملوں کا خدشہ
حالیہ حملوں میں تباہ عمارت
حالیہ حملوں میں سترہ افراد ہلاک اور ایک سو بیس زخمی ہوئے۔

سعودی عرب میں برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں شبہ ہے کہ القاعدہ سلطنت پر مزید حملوں کی تیاری کررہی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی باشندوں کو تنبیہ کردی ہے۔

انقلابی خیالات رکھنے والے ان علماء کا بھی، جو شدت پسندوں سے مذاکرات کی کوشش کرتے رہے ہیں، خیال یہی ہے کہ ایسے حملوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ادھر سعودی وزیر داخلہ شہزادہ نائف نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ سنیچر کو ہونے والے ان حملوں کے سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے جن میں سترہ افراد ہلاک اور ایک سو بیس زخمی ہوئے تھے۔

شہزادہ نائف کی جانب سے یہ تردید اس وقت سامنے آئی ہے جب سعودی وزارت داخلہ نے منگل کو تصدیق کردی تھی کہ اس سلسلے میں دو یا تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اگرچہ اب وزیر داخلہ نے ان گرفتاریوں کی تردید کردی ہے تاہم ایک اعلیٰ سعودی افسر کا کہنا ہے کہ عوام کا مطالبہ تھا کہ اس سلسلے میں گرفتاریاں کی جائیں مگر جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے سعودی حکام کے خیال میں ان کا ان خودکش حملوں سے کوئی تعلق نہیں۔

سعودی عرب میں برطانوی سفیر شیرارڈ کاؤپر کوہلز کا کہنا ہے ’اگرچہ مشورہ تو سب کے لیے ہی ہے مگر خاص طور ان کے لیے ہے جن کے لیے سعودی عرب کا سفر ناگزیر ہے۔ لیکن جو حالات ہیں اور جو اطلاعات ہم اکھٹا کرسکے ہیں ان کے تحت یہاں شدید خطرہ موجود ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے اور مزید حملے ہوسکتے ہیں۔

سعودی عرب پر حملے
گزشتہ مئی اور سنیچر کو کیے جانے والے دونوں حملے رہائشی احاطوں پر کیے گئے۔

کم و بیش ایسا ہی پیغام ان علماء نے بھی دیا ہے جو ایک طرف شدت پسندوں کو ہتھیار ڈال دینے پر راضی کرنے اور دوسری جانب سعودی حکام کو ان شدت پسندوں سے مذاکرات کرنے پر رضامند کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

ان علماء کا بھی خیال ہے کہ ایسے حملے کا امکان موجود ہے اس لیے کہ اب تک ان کی کوششوں کا کوئی مؤثر نتیجہ نہیں نکل سکا ہے حالانکہ دونوں جانب ان کے مذاکرات ابھی جاری ہیں۔

ان مذاکرات میں شریک ایک ایسے ہی عالم دین کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے دو مطالبات رکھے ہیں، اوّل ملک کے عدالتی نظام میں اصلاحات اور دوئم (بقول ان شدت پسندوں کے) ان پر کیے جانے والے حملے بند کرنے کا مطالبہ۔

تاہم ان شدت پسندوں کے بارے میں اس سوال پر کہ کیا یہ لوگ واقعی براہ راست القاعدہ سے منسلک ہیں، وہ لوگ تک، جو ان سے مذاکرات کررہے ہیں، کوئی واضح جواب نہیں رکھتے۔

وہ صرف اتنا ہی کہتے ہیں کہ یہ مسلح تنظیمیں ہیں جو حکومت کی مخالف ہیں۔

تاہم وزیر داخلہ شہزادہ نائف نے دہشت گردوں سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کا امکان مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’ہم ان سے صرف تلوار اور بندوق کی زبان میں بات کرسکتےہیں۔‘

سعودی حکام کے خیال میں ماہ رمضان میں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ سے عمرے کے زائرین کو دور رکھ کر دراصل القاعدہ سعودی حکومت کو بے بس ظاہر کرنا چاہتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد