| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مکہ میں بمباروں نے خود کو اُڑا دیا
مکہ مکرمہ میں دو مبینہ شدت پسندوں نے گرفتاری سے بچنے کے لئے خود کو بم سے اڑا دیا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مکہ کے الشراع علاقے میں اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی اہلکار شدت پسندوں کے خلاف ایک کارروائی میں مصروف تھے۔ اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ پولیس نے ریاض میں ایک چھاپے کے دوران ایک اسلامی شدت پسند کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔اس واقعہ میں آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے نے ملک کی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ کچھ شدت پسندوں نے اس وقت پولیس پر فائرنگ کی جب پولیس نے ان کی کمیں گاہ پر چھاپہ مارا۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک شدت پسند ہلاک ہو گیا جبکہ آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ منگل کے روز سعودی حکومت نے کہا تھا کہ پولیس نے مکہ مکرمہ میں دو شدت پسندوں کو ہلاک اور دیگر چھ کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ شدت پسند مبینہ طور پر حاجیوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ سعودی وزیر داخلہ شہزادہ نائف نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کی نتظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مبینہ شدت پسند ’عمارات، تنصیبات اور عام لوگوں‘ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ جمعرات کو ہونے والا واقعہ سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے دارالحکومت ریاض کے جنوبی علاقے سویدی میں ہوا۔ سعودی وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق واقعے کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ ان دونوں واقعات سے چند روز پیشتر امریکی اور برطانوی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو خبر دار کیا تھا کہ رمضان کے مہینے میں مغربی اہداف کے خلاف شدت پسند حملے ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب میں مئی کے مہینے میں مغربی شہریوں کی رہائش گاہوں پر ہونے والے بم حملے کے بعد سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||