کارگل کے قیدیوں کا تبادلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان نے پیر کے روز واہگہ کے راستے پانچ سال سے قید کارگل جنگ کے تین قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ لاہور اور امرتسر کے درمیان واہگہ چیک پوسٹ سے ہندوستان کے دو جنگی قیدی سرحد پار بھیجے گۓ جبکہ ہندوستان سے ایک پاکستانی جنگی قیدی واپس آیا۔ لاہور میں فوج کے ترجمان آئی ایس پی آر کے میجر سید شاہد عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ قیدیوں کا تبادلہ جی ایچ کیو اور رینجرز حکام کنٹرول کررہے ہیں اور اس کی میڈیا کوریج نہیں کی جارہی۔ واہگہ پر رینجرز حکام نے صحافیوں اور فوٹوگرافروں کو سرحدی چوکی کے اندر نہیں جانے دیا۔ واہگہ امیگریشن دفتر کے مطابق واپس بھیجے جانے والے ہندوستانی جنگی قیدیوں کے نام جگسیر سنگھ اور محمد عارف ہیں۔ جگسیر سنگھ کا تعلق پنجاب میں مکتسر کے علاقے میں گاؤں کوٹ بھائی سے ہے اور محمد عارف کا تعلق ریاست اتر پردیش میں میرٹھ سے ہے۔ ان دونوں کو سولہ ستمبر انیس سو ننانوے کو گرفتار کیا گیا تھا۔ رہا ہونے والے پاکستانی جنگی قیدی کا نام سلیم علی شاہ ہے اور ان کے اہل خانہ فوجی اہلکاروں کے ہمراہ انہیں لینے کے لیے واہگہ آئے ہوئے تھے۔ کارگل کی جنگ پاکستان میں ایک متنازعہ سیاسی معاملہ ہے جس پر حزب اختلاف تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ جنگ کے دوران پاکستان نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ اس لڑائی میں اس کے فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ دریں اثناء ہندوستان سے پاکستان کے تین ایسے شہری بھی واپس آئے جو سرحد پار کرنے کے الزام میں قید تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||