وزیرستان دھماکہ، ایک ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک دھماکے سے نیم فوجی ملیشیا کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ دس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ دھماکہ سہ پہر سوا تین بجے کے قریب جنڈولہ سے وانا جا رہی فرنٹیر کور ملیشیا کی ایک بس کے قریب ایف آر بیٹنی کے علاقے میں ہوا۔ دھماکے سے گاڑی کا ڈرائیور موقع پر ہلاک جبکہ دس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی کہ آیا یہ ریمورٹ کنٹرول تھا یا بارودی سرنگ تھی۔ زخمیوں کو ٹانک اور جنڈولہ کے ہسپتالوں میں طبی امداد مہیا کی گئی۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے پشاور میں ایک خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ وانا کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسیشن کی ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو بھی اس فوجی کارروائی کے بارے میں اعتماد میں لیے جانے کی پالیسی کو جاری رکھا جائے گا۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت میں گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اس لیے وہ فوجی تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں۔ ان کے بقول وانا میں حالات خراب نہیں بلکہ بہتر ہو رہے ہیں۔ ہائی کورٹ بار ایسوسیشن کے صدر ضیاء الرحمان نے اس موقع پر وانا کارروائی فوراً بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||