فوجی ٹھکانوں پر راکٹوں سے حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج کے قبائلی علاقوں میں قائم دو فوجی ٹھکانوں پر کل رات گئے راکٹوں سے حملہ کیا گیا ہے لیکن کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے حکام نےاس بات کی تصدیق کی ہے کہ کچھ نامعلوم افراد نے رزمک کے علاقے میں فوجی ٹھکانوں پر درجنوں راکٹ فائر کیے ہیں۔ پاکستان کی فوج اس علاقے میں کافی عرصہ سے طالبان کے حامی قبائل کے خلاف کاروائی میں مصروف ہے۔ پچھلے ہفتے اس نے ایک کاروائی کے دوران علاقے میں طالبان کے سب سے بڑے حامی نیک محمد کو ہلاک کر دیا تھا۔ شمالی وزیرستان میں دوسلی اور رزمک کے علاقوں پر تازہ راکٹ حملے کل رات گئے ہوئے۔ نامعلوم حملہ آوروں نے رات دس بجے سے رزمک میں فرنٹیر کور ملیشا کے کیمپ پر وقفے وقفے سے راکٹ داغنے شروع کیے اور یہ سلسلہ نصف شب تک جاری رہا۔ جواب میں ایف سی جوانوں نے بھی قریبی پہاڑوں پر بھاری اسلحے سے فائرنگ کی۔ دوسری جانب دوسلی قلعے اور تحصیل بلڈنگ پر بھی سات راکٹ داغے گئے۔ یہ تمام راکٹ اپنے اہدف پر نہ لگ سکے جس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ اس سے چند روز قبل جنوبی شہر بنوں میں راکٹ حملے میں کئی افراد زخمی ہوگئے تھے۔ ماہرین کے خیال میں ان حملوں کا بظاہر مقصد نقصان سے ذیادہ لوگوں میں خوف پیدا کرنا ہے۔ مبصرین ان حملوں کا تعلق وانا کی صورتحال سے بھی بتاتے ہیں۔ سرحد کے گورنر لیفنٹنٹ جنرل(ریٹائرڈ) سید افتخار حسین شاہ نے ایک مرتبہ پھر قبائلیوں سے کہا ہے کہ وہ علاقے میں چھپے القاعدہ کے عسکریت پسندوں کی نشاندہی میں حکومت سے تعاون کریں۔ قبائلی عمائدین سے پشاور میں ایک ملاقات میں واضح کیا کہ حکومت اب بھی القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی عناصر کو مشروط عام معافی دینے کے وعدے پر قائم ہے۔ گورنر کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات کے باعث غیرملکی عناصر کے ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں لیکن اب بھی وہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں زیر زمین موجود ہیں۔ انہوں نے قبائلیوں کو خبردار کیا کہ وہ ان عناصر کی نشاندہی میں حکومت سے تعاون کریں۔ ادھر وانا میں آج زلی خیل قبیلے نے ان دو قوموں کو دو روز کی مہلت دی ہے کہ وہ حکومت کو مطلوب مولوی عباس اور جاوید کو ان کے حوالے کر دیں۔ ایسا نہ کر سکنے کی صورت میں ان افراد کے قبیلوں کو دس دس لاکھ روپے بطور ضمانت جمع کرانے ہونگے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||