قبائلیوں سے ایک نیا معاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام نے دعوی کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں شکئی کے علاقے میں آباد چار قبائل سے ایک معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت ان قبائل نے القاعدہ کے ارکان کو پناہ نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکام کے مطابق اس پانچ نکات پر مشتمل معاہدے میں ان قبائل نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ علاقے میں موجودی پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے اور تمام مطلوبہ افراد کو حکام کے حوالے کر دیں گے۔ شکئی کے علاقے کو القاعدہ کے مبینہ ارکان کی کارروائیوں کو مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ حکام اور قبائلی رہنماوں میں اس سال
اس معاہدے پر قبائیلی رہنماوں کی طرف سے نیک محمد نے دستخط کئے تھے۔ نیک محمد کو چند ہفتوں بعد پاکستانی فوج نے مبینہ طور پر امریکی فوج کی مدد سے میزائیل کے ایک حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔ اس تازہ معاہدے کے تحت قبائلیوں نے گارنٹی کے طور پر کچھ رقم دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ اگر اس معاہدے پر عمل ہو گیا تو یہ قبائلی علاقوں کو شدت پسندوں سے پاک کرنے کےلیے کی جانے والی حکومتی مہم کی ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||