کمپیوٹرماہر نور خان کون ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ سے مبینہ تعلق رکھنے والے پاکستانی کمیپیوٹر ماہر کی لاہور میں گرفتاری کے بعد برطانیہ اور پاکستان میں مختلف گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ محمد نعیم نور خان کو پاکستان کے شہر لاہور سے بارہ جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستان کے حکام القاعدہ میں نعیم کے مبینہ کردار کے بارے میں مختلف تفصیلات بیان کر رہے ہیں لیکن کچھ افسران کا کہنا ہے کہ وہ القاعدہ کے سلسلے میں اہم کردار کا حامل تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہی کے کمپیوٹر سے حساس اداروں کو اس ای میل کا پتہ چلا جس کے ذریعے وہ تنزانیہ کے باشندے تک پہنچے جو مشرقی افریقہ کے امریکی سفارتخانے میں ہونے والے انیسں سو اٹھانوے کے دھماکے میں ملوث اور امریکہ کو مطلوب تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پچیس سالہ نعیم القاعدہ کے اہم رہنماؤں اور آپریشنل سیل کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھا۔ کچھ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہیتھرو ائرپورٹ اور لندن میں دوسری اہم عمارتوں پر حملوں کی تفصیلات بھی نعیم نور کے کمپیوٹر ہی سے ملی ہیں لیکن اسلام آباد نے ان تفصیلات کی تصدیق نہیں کی ہے۔
نعیم نور ان کئی لوگوں میں سے ایک ہیں جو جون سے ہونے والی مختلف کارروائیوں میں پاکستان سے گرفتار ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق کراچی کے ایک متوسط خاندان سے ہے۔ انہوں نے کراچی کی مشہور نادرشا، ایڈلجی، دنشا یعنی این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی سے دو ہزار ایک میں گریجویشن کیا۔ ان کے پرانے اساتذہ میں ظفر قاسم کو یاد ہے کہ نعیم نور ایک خاموش طبعہ ، ہونہار لڑکا تھا جو جھگڑوں سے دور رہتا تھا۔ ظفر نے اے پی کو بتایا ’وہ ذرا مذہبی سا تھا اور اس کی چھوٹی سی داڑھی تھی۔ مگر میں نے اسے کبھی طلباء کی کسی تنطیم کی کارروائیوں میں حصہ لیتے نہیں دیکھا‘۔ نعیم نور کے والد نے اسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ انہوں نے کئی سال سے اپنے بیٹے کو نہیں دیکھا۔ نعیم نور کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے جنوری دو ہزار تین میں لندن کی سٹی یونیورسٹی میں ہیومن ریسورس مینجمنٹ کی کلاسز لینا شروع کی تھیں۔ لیکن وہ دس میں چار لیکچر ہی لینے کے بعد غائب ہو گئے تھے۔ بی بی سی کے نیوز نائٹ ٹی وی پروگرام کو معلوم ہوا ہے کہ اس ہفتے میں برطانیہ میں ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن کے نعیم خان کے ساتھ مبینہ رابطے تھے۔اس شک میں کہاں تک سچائی ہے یہ ابھی واضع نہیں ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||