BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 August, 2004, 08:09 GMT 13:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قاری سیف اللہ پاکستان کےحوالے

News image
پاکستان کے وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ قاری سیف اللہ اختر جو شدت پسندی کی کاروائیوں میں مطلوب تھے، کو دوبئی میں گرفتاری کے بعد پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اتوار کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ دبئی کے حکام نے قاری سیف اللہ کو گرفتار کرکے پاکستانی حکام کے حوالے کیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پاکستان کو کئی شدت پسندی کی کاروائیوں میں قاری سیف اللہ مطلوب تھے اور وہ پاکستان سے فرار ہوکر دبئی میں چھپ گئے تھے۔

وزیر نے ایک سوال پر بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف پر گذشتہ سال دسمبر میں دو ناکام حملوں اور نامزد وزیر اعظم شوکت عزیز پر حال ہی میں ہونے والے حملے میں وہ ملوث ہیں یا نہیں اس ضمن میں تحقیقات ہورہی ہے اور وہ فی الوقت اس کی تصدیق نہیں کرسکتے۔

شیخ رشید نے کہا کہ القاعدہ کا پاکستان میں نیٹ ورک توڑنے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اب تک گرفتار کیے جانے والے دو درجن کے لگ بھگ القاعدہ کے اراکین میں ’گیارہ سرکردہ اراکین، بھی شامل ہیں جو متعدد شدت پسندی کی کاروائیوں میں مطلوب تھے۔

قاری سیف اللہ اختر کے بارے میں غیرملکی خبر رساں اداروں نے نام ظاہر کیے بغیر پاکستانی انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ان کا تعلق ایک جہادی تنظیم ’حرکت الجہاد اسلامی، سے ہے اور وہ اسامہ بن لادن اور طالبان رہنما ملا عمر کے ساتھ بھی رہ چکے ہیں۔

قاری سیف اللہ کے متعلق غیر ملکی خبر رساں اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ افغانستان سے سعودی عرب گئے تھے اور بعد میں متحدہ عرب امارات آگئے تھے۔

جب اس ضمن میں شیخ رشید احمد سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی تحقیقات جاری ہے اور وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

قاری سیف اللہ اختر پاکستان میں شدت پسند جہادی گروپوں میں نیا نام نہیں ہے وہ ابتدا میں کشمیر میں شدت پسند سرگرمیوں میں ملوث تھے اور حرکت الانصار نامی تنظیم کے پاکستان میں سربراہ بھی رہے ہیں۔

قاری سیف اللہ ستمبر سن انیس سو پچانوے میں جب اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کی کوشش میں بھی شریک تھے اور گرفتار بھی ہوئے تھے، لیکن ان کا ٹرائل نہیں ہوا تھا۔

بینظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اس وقت کے حاضر سروس میجر جنرل ظہیرالاسلام عباسی سمیت چار فوجیوں کے ہمراہ قاری سیف اللہ بھی اٹک قلعہ میں قید رہ چکے ہیں۔

اس ضمن میں رابطہ کرنے پر کورٹ مارشل کی سزا مکمل کرکے سن دوہزار ایک میں رہا ہونے والے میجر جنرل ظہیراالاسلام عباسی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ قاری سیف اللہ ان کے ساتھ شریک ملزم تھے، لیکن ان کے بقول خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی والے انہیں لے گئے تھے اور ان کا ٹرائل نہیں ہوا تھا۔

قاری سیف اللہ بعد میں افغانستان چلے گئے جہاں انہوں نے طالبان کے حامی پاکستانیوں کو جمع کرکے جہادی تنظیم ’حرکت الجہاد اسلامی، کو بحال کیا اور شمالی اتحاد کے خلاف لڑتا رہا اور ان ہی دنوں میں ان کی قربت ملا عمر کے بعد اسامہ بن لادن سے بھی ہوئی تھی۔

طالبان کے خلاف جنگ کے دوران کابل میں جب امریکہ اور ان کی اتحادی فوجوں نے ایک مکان پر راکٹ حملہ کیا تھا جس میں پچاس پاکستانی شدت پسند ہلاک ہوگئے لیکن قاری سیف اللہ محفوظ رہے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد