BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 January, 2005, 19:45 GMT 00:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیویاں بھی ساتھ رہ سکیں گی

چھوٹے بچے اپنی ماؤں کے ساتھ جیل میں رہ سکیں گے
چھوٹے بچے اپنی ماؤں کے ساتھ جیل میں رہ سکیں گے
صوبہ سرحد میں حکومت نے قیدیوں کو اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ سال میں تین مرتبہ تین تین روز کے لئے رکھنے کی اجازت کے فیصلے کا ایک باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

صوبہ سرحد کی جیلوں میں قید شادی شدہ افراد کو سہولتیں دینے کا یہ فیصلہ گزشتہ دنوں متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت نے کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا تھا۔

اس فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن سنیچر کے روز جاری کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق شادی شدہ قیدی ہر سال میں تین مرتبہ اپنی بیوی کو ایک وقت میں تین روز تک اپنے پاس رکھنے کا حقدار ہوگا۔ البتہ اس کی اجازت متعلقہ ضلعی رابطہ افسر یا ڈی سی او سے لینا لازم ہوگی۔

فیصلے کے مطابق یہ سہولت صرف ان قیدیوں کے لئے ہوگی جو پانچ سال سے زائد عرصے سے قید ہوں اور جو دہشت گردی یا ملک دشمن تخریبی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں۔

بیویوں کے علاوہ چھ سال سے کم عمر کے بچے بھی اپنی والدہ کے ساتھ جیل میں رہ سکیں گے۔

سرکاری نوٹیفیکیشن نے ان قیدیوں کی بھی مشکل حل کر دی ہے جن کی ایک سے زیادہ بیویاں ہیں۔ ایسے قیدی کو ہر بیوی کے ساتھ دو دو دن گزارنے کی اجازت ہوگی۔

فی الحال صوبے کے قید خانوں میں ایسے میاں بیوی کو اکٹھا رکھنے کی سہولتیں موجود نہیں۔ اس مقصد کے لئے دینی جماعتوں کی حکومت نے جیلوں میں الگ کمرے تعمیر کرنے کی بھی منظوری دی تھی۔

اس طرح کی سہولت اگر صوبے کے قیدیوں کو میسر آتی ہے تو یہ ملک واحد صوبہ ہوگا جہاں قیدی اپنی بیویوں کو ساتھ رکھ سکیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد