کھلونا بم پھٹنے سے 3 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے مستونگ میں کھلونا بم پھٹنے سے تین بچے ہلاک اور ان کے والدین زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں کو یہ دستی بم راستے میں ملا تھا جسے وہ کھلونا سمجھے اور آپس میں کھیلنے لگے۔ بم اچانک پھٹ گیا جس سے تینوں بھائی ہلاک اور والدین زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ مستونگ کے قریب درینگڑ کے علاقے میں پیش آیا۔ بچوں کے نام رضا محمد 12 احسان اللہ 16 اور عنایت جان 18 بتائے جاتے ہیں۔ بموں سے بھرا ڈبہ گھر لے آئے اور دستی بموں کو کھلونے سمجھ کر کھیلنے لگے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ بھائیوں نے دستی بم آپس میں تقسیم کر لیے تھے اور یہ ان کے لیے انو کھے کھلونے تھے۔ پولیس سے جب پوچھا گیا کہ یہ بم اس علاقے میں کیسے آئے تو انھوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔ تاہم مستونگ کے تحصیل ناظم اقبال زہری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جس مقام سے یہ بم ملے ہیں وہاں اس سے پہلے افغان مہاجر رہتے تھے۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ بم زمین کے اندر کس نے دبا کر رکھے تھے۔ لڑکوں کے والدین خان جان اور زوجہ خان جان کو شدید زخمی حالت میں کوئٹہ ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے جہاں خاتوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بم دھماکے اور راکٹ داغے جانے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ آئے روز قانون نافذ کر نے والے اہلکار ہتھیاروں کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے اسلحہ ضبط کرتے رہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||