بلوچستان: برف باری سے حادثات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی برف باری ہوئی ہے جس سے سردی میں اضافہ ہوا ہے۔ بارش اور برف باری سے جہاں لوگوں نے شکر ادا کیا ہے وہاں کئی علاقوں میں حادثات کی اطلاعات بھی ہیں۔ کوئٹہ میں برف باری کا سلسلہ جمرات کی صبح شروع ہوا جبکہ دیگر علاقے جیسے شمال میں زیارت، کان مہترزئی، کوژک اور جنوب میں قلات وغیرہ میں برف باری کا سلسلہ دو روز سے جاری ہے۔ زیارت اور کان مہترزئی میں سات سے نو انچ تک برف باری ریکارڈ کی گئی۔ کوئٹہ شہر میں برف باری کے ساتھ بارش کا سلسلہ بھی جاری رہا جس وجہ سے برف جمع نہیں ہوئی۔ کوئٹہ کے قریب ہنہ اوڑک کے علاقے میں کافی برف جمع ہو گئی ہے۔ کوئٹہ سے بڑی تعداد میں لوگ ہنہ کے علاقے میں پہنچ گئے جہاں انہوں نے موسم کی پہلی برف باری کا لطف اٹھایا۔ حالیہ بارشوں اور برف باری سے کئی علاقوں میں حادثات ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ کان مہترزئی میں سڑک کے حادثے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زیارت روڈ پرگاڑی الٹ گئی جس سے چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دالبندین کے علاقے میں ایک مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون ہلاک ہوگئی۔ اس کے علاوہ حال ہی میں مکمل ہونے والی ساحلی شاہراہ مختلف مقامات پر بیٹھ گئی ہے جس سے ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔ اس ساحلی شاہراہ کا افتتاح کچھ روز قبل صدر جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا۔ صوبہ بلوچستان میں آٹھ سال سے خشک سالی پائی جاتی ہے لیکن چاغی کا علاقہ جہاں پاکستان نے انیس سو اٹھانوے میں ایٹمی دھماکے کیے تھے، مسلسل خشک سالی سے شدید متاثر ہوا ہے۔ حالیہ بارشوں کے بارے میں ایک مقامی باشندے نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ علاقے میں جوھڑ بھر گئے ہیں اور ریت پر کھڑا پانی سمندر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||