سوئی حملے: بگٹی قبیلے پر الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے سوئی میں گیس پلانٹ پر ہونے والے حملوں میں سات جنوری سے اب تک کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سکیورٹی اداروں کے چار افراد بھی شامل ہیں۔ حکومت نے پہلی بار الزام عائد کیا ہے کہ سوئی پر حملوں میں بگٹی قبیلے کے تین سو افراد شامل تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے یہ بات صدر جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت بلوچستان کے مسئلے پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کی۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ہتھیار بگٹی ہاؤس کے آس پاس سے آئے مگر انہوں نے اس مسئلے پر کسی کا نام لینے سے گریز کیا۔ ایک سوال پر کہ سوئی کے واقعے کی بنیاد چند روز پہلے سوئی گیس پلانٹ میں ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ زیادتی بنی وزیر داخلہ نے کہا کہ اس مسئلے پر آرمی کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے انکوائری شروع کی ہے جبکہ عدالتی سطح پر بھی اس واقعے کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ بلوچستان کے چند سیاسی رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والی زیادتی میں آرمی کا ایک کپتان بھی ملوث ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سوئی گیس پلانٹ پر حملوں میں چھوٹے اسلحے کے چودہ ہزار راؤنڈ، آر پی جی اور راکٹ کے چار سو پینتیس راؤنڈ جبکہ ملٹی بیرل راکٹ لانچر کے پچاس سے زائد راؤنڈ فائر کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر صوبائی حکومت کارروائی کرے گی اور اگر اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے کسی مدد کی درخواست کی گئی اور وہ فراہم کی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سوئی گیس پلانٹ پر حملہ ایک ملکی اثاثے پر حملہ ہے جس سے گھروں کو گیس کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||